خلاصہ
- مظفرآباد: (محمد اسلم میر) مقبوضہ جموں و کشمیر کے ممتاز حریت پسند لیڈر اور شعلہ بیان مقرر سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی آج منائی جا رہی ہے، سید علی شاہ گیلانی نے اپنی پوری زندگی کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے سیاسی جدوجہد میں گزاری اور حریت کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ایک اہم قائدانہ کردار ادا کیا، وہ نہ صرف ایک مضبوط سیاسی آواز تھے بلکہ اعلیٰ پائے کے مصنف، مورخ، دانشور اور سکالر بھی تھے۔
سید علی شاہ گیلانی کی سیاسی جدوجہد کا آغاز زمانہ طالب علمی ہی میں ہوا، انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی دور سے ہی کشمیر کے سیاسی، سماجی اور نظریاتی معاملات کا گہرا مطالعہ کیا اور بعدازاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا، ان کی سیاست کا بنیادی محور کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا ان کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل تھا۔
وہ کئی دہائیوں تک بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سیاسی مزاحمت کی علامت بنے رہے، قید و بند کی صعوبتیں، نظربندی اور دیگر مشکلات بھی ان کے سیاسی عزم کو متزلزل نہ کر سکیں، حریت کانفرنس میں بھی انہوں نے اہم قائدانہ ذمہ داریاں انجام دیں اور کشمیریوں کے سیاسی مؤقف کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔
سید علی شاہ گیلانی اعلیٰ پائے کے مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کہنہ مشق مورخ اور سکالر بھی تھے، زمانہ طالب علمی سے ہی وہ مطالعے کے شوقین تھے، ان کی علمی اور فکری زندگی پر سید ابوالاعلیٰ مودودی اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی گہری چھاپ تھی، وہ اقبال کے سچے عاشق اور اقبالیات کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔
انہوں نے علامہ اقبال کی فارسی شاعری کے موضوع پر تین کتب بھی تحریر کیں، ان کی تحریر میں روانی اور ربط نمایاں تھا، جبکہ مضامین میں اشعار کا برمحل اور خوبصورت استعمال ان کے اسلوب کو منفرد بناتا تھا۔
اپنی آپ بیتی ’’ولر کنارے‘‘ سمیت سید علی شاہ گیلانی بیس سے زائد کتب کے مصنف تھے، ’’رودادِ قفس‘‘، ’’سفرِ محمود میں ذکرِ مظلوم‘‘ اور ’’اقبال اپنے پیغام کی روشنی میں‘‘ ان کی معروف تصانیف میں شامل ہیں۔
سید علی شاہ گیلانی کی تصانیف میں حریت، خودی، امت مسلمہ، اصلاح معاشرہ اور کشمیر کی سیاسی جدوجہد کے پہلو نمایاں رہے، ان کی تحریروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی کئی نسلوں خصوصاً نوجوانوں کو متاثر کیا، ان کی کتابیں محض ادبی یا سیاسی تحریریں نہیں بلکہ ان کے فکری سفر، سیاسی نظریات اور کشمیری معاشرے کے بارے میں ان کے نقطۂ نظر کی عکاس بھی ہیں۔
ان کے سیاسی سفر میں حریت کانفرنس کے پلیٹ فارم پر ادا کیا گیا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے، انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو ایک سیاسی مسئلے کے طور پر اجاگر کرنے، کشمیری قیادت کو متحد رکھنے اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانے کیلئے طویل عرصے تک جدوجہد کی۔
سید علی شاہ گیلانی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی تھا کہ وہ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مطالعے اور تصنیف و تالیف سے مسلسل وابستہ رہے، ان کی تحریروں میں نظریاتی استقامت، تاریخ کا شعور اور کشمیر کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ان کا واضح تصور نمایاں نظر آتا ہے۔
ان کی پانچویں برسی کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت نے سید علی شاہ گیلانی کی سیاسی اور علمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے ان کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر افتخار گیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ سید علی شاہ گیلانی نے اپنی پوری زندگی کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے وقف کیے رکھی، انہوں نے کہا کہ گیلانی کی سیاسی جدوجہد، ثابت قدمی اور فکری خدمات آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہیں، ان کی جدوجہد نے مسئلہ جموں و کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چودھری طارق فاروق نے اپنے بیان میں کہا کہ سید علی شاہ گیلانی کشمیری مزاحمت کی ایک توانا آواز تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی عشرے کشمیر کاز کیلئے وقف کیے، انہوں نے کہا کہ گیلانی کی سیاسی جدوجہد کے ساتھ ان کی علمی، ادبی اور فکری خدمات بھی قابل قدر ہیں، ان کی تصانیف اور افکار کشمیری عوام خصوصاً نوجوان نسل کیلئے ایک اہم علمی ورثہ ہیں۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے سید علی شاہ گیلانی کو لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بسنے والے کشمیریوں کا واحد ’’غیر متنازعہ“ لیڈر قرار دیا ہے، وہ پاکستان کے عاشق تھے اور ان کا نعرہ ’’ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے‘‘ پاکستان کے اندر اور باہر رہنے والے پاکستانیوں اور کشمیریوں کا مقبول ترین نعرہ بن چکا ہے۔