پلندری میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کا امن مارچ، فساد نامنظور کا نعرہ لگا دیا

پلندری میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کا امن مارچ، فساد نامنظور کا نعرہ لگا دیا

ریلی میں سیاسی جماعتوں، تاجروں، سول سوسائٹی، وکلا، ٹرانسپورٹرز، طلبہ، ایکس سروس مین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

امن مارچ کا آغاز کوٹلی چوک سے ہوا جو شہر کے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا کچہری چوک پہنچا، جہاں جلسہ عام منعقد کیا گیا۔

اس موقع پر پلندری کی فضا ’’یہ وطن ہمارا ہے، اس کے پاسبان ہم ہیں‘‘، ’’آزاد کشمیر میں انتشار نامنظور‘‘، ’’فساد نامنظور‘‘، ’’بدامنی نامنظور‘‘، ’’کشمیر اور پاکستان یک جان‘‘ اور ’’ہم کیا چاہتے ہیں، امن‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔

جلسہ عام سے مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم کانفرنس، جمعیت علمائے اسلام، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی، تحریک انصاف سمیت مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں، تاجران، سول سوسائٹی، وکلا، ٹرانسپورٹرز، تعلیمی حلقوں اور ایکس سروس مین کے نمائندوں نے خطاب کیا۔

مقررین اور شرکا نے خطے میں امن، استحکام اور عوامی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔

امن مارچ کے شرکا کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں حکومت پاکستان اور مسلح افواج پاکستان کو عالمی امن کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کی گئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے لازوال رشتے کو کوئی کمزور نہیں کرسکتا، مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کی ضمانت ہے، جبکہ آزاد کشمیر پاکستان کا دفاعی حصار ہے، اس لیے خطے میں بدامنی کو فروغ دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

مشترکہ اعلامیے میں حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا گیا کہ راولاکوٹ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں فوری انتخابات کرائے جائیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان سے آزاد کشمیر آنے والی خوردونوش اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل بلا رکاوٹ یقینی بنانے کے ساتھ آزاد کشمیر اور پاکستان کی حدود میں قائم ناکہ بندی اور انٹری پوائنٹس پر عائد رکاوٹیں فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

شرکا نے آزاد کشمیر، بالخصوص سدھنوتی اور راولاکوٹ میں سفری و تعلیمی حقوق بحال کرنے اور ریاست میں فوری انٹرنیٹ سروس بحال کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے بیرون ملک جانے والے شہریوں کے لیے مطلوبہ دستاویزات کے اجرا کا عمل آسان اور فوری بنانے، آزاد کشمیر کی فلور ملز کو گندم کی فراہمی یقینی بنانے اور آٹے کی سپلائی برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

امن مارچ کے شرکا نے راولاکوٹ سے تعلیمی اور انتظامی اداروں کی منتقلی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا۔

علاوہ ازیں انہوں نے پٹرول کی ترسیل بلا تعطل یقینی بنانے پر بھی زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوام کو بنیادی اشیائے ضروریہ، سفری سہولیات اور مواصلاتی رابطوں کی فراہمی میں حائل تمام رکاوٹیں فوری دور کی جائیں۔