اتباع رسولﷺ میں ہی فلاح و نجات

اتباع رسولﷺ میں ہی فلاح و نجات

یہی وجہ ہے کہ آپﷺ کی زندگی کو قرآنی نمونہ قرار دیا گیا، دین اسلام کی تعلیمات پر ایمان اور اس کے تقاضوں پر عمل چونکہ آپﷺ کے بغیر ممکن ہی نہیں، اس لیے کلمہ شہادت میں جہاں اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا اقرار ضروری ہے وہاں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو ماننا بھی لازم ہے۔

حضرت ثمامہ بن اثالؓ اسلام لانے سے قبل جب گرفتار ہو کر آئے تو انہیں مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا، کچھ دن انہوں نے نبی کریمﷺ کے اخلاق کریمہ اور مشفقانہ سلوک کا بغور مشاہدہ کیا، جب آپﷺ کے حکم پر انہیں رہا کیا گیا تو انہوں نے بقیع کی ایک جانب کھجوروں کے ایک باغ میں غسل کیا اور پھر نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کلمہ شہادت پڑھا اور حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئے۔ ( ابو داؤد:2681)

آپ ﷺ کی رسالت کو تسلیم کیے بغیر ایمان قابلِ قبول ہی نہیں، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آنحضرتﷺ پر ایمان اس وقت تک کامل ہو ہی نہیں سکتا جب تک آپﷺ کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی محبت نہ ہو، اگر دل محبت نبویﷺ سے خالی ہے تو آپ ﷺ پر ایمان کا دعویٰ محض زبانی دعویٰ ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں، اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اس بات پر عذاب کی وعید سنائی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ، اس کے رسولﷺ سے اپنے ماں باپ، اولاد، رشتہ داروں، تجارت اور مال و دولت وغیرہ سے زیادہ محبت کرے۔

’’(اے پیغمبرؐ! مسلمانوں سے) فرما دیں کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، مال و دولت، کاروبار، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے‘‘ (التوبہ: 2)۔

حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والدین، اولاد اور باقی تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں‘‘ (صحیح بخاری)۔

نبی کریمﷺ سے محبت کے کچھ تقاضے ہیں، ان تقاضوں پر پورا اترنا اور اس کیلئے پوری کوشش کرنا ہی عشق و محبت کی حقیقی علامت ہے، آنحضرتﷺ سے محبت کا حقیقی اور اہم تقاضا اطاعتِ رسول ہے، یعنی آپ ﷺ کے ارشادات پر عمل کیا جائے، آپﷺ نے جن باتوں کے کرنے کا حکم فرمایا ہے ان پر عمل کیا جائے اور جن کاموں سے روکا ہے ان سے یکسر اجتناب کیا جائے۔

ارشاد ربانی ہے ’’(اے پیغمبر!) آپؐ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ بہت معاف کرنے والا بڑا مہربان ہے‘‘ (سورۃ آل عمران:31)۔ یعنی اطاعتِ رسولﷺ کے بغیر محبت الہیہ کا دعویٰ بھی بے حقیقت ہے۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری امت کا ہر شخص جنت میں داخل ہوگا، سوائے اس کے جس نے انکار کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! وہ کون شخص ہے جس نے (جنت میں جانے سے) انکا ر کیا؟ آپﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا‘‘(صحیح بخاری)۔

حضرت عابس بن ربیعہؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دے کر فرمایا: میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے، نہ تو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع، اگر میں نے نبی کریمﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا (صحیح بخاری)۔

اطاعت گزاروں پر انعامات

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اے پیغمبر! آپﷺ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری باتوں پر عمل کرو، خود اللہ تم سے محبت فرمائے گا، مزید یہ کہ وہ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بہت مہربان ہے‘‘ (آل عمران:31)، اس آیت مبارکہ میں دو انعامات کا تذکرہ موجود ہے۔ پہلا اللہ رب العزت کی محبت کا ملنا جو کہ تمام انعامات میں سے سب سے بڑا انعام اور مقصد حقیقی ہے۔ جس خوش نصیب کو یہ انعام مل جائے اسے اور کسی چیز کی ضرورت ہی کہاں رہتی ہے؟

دوسرا انعام گناہوں کی بخشش کرنے کی صورت میں عطا فرمایا ہے کہ تمہاری زندگی میں جو گناہ ہوگئے ہیں ان کا تقاضا تو یہی تھا کہ تمہیں اس کی سزا دیتا لیکن تم نے میرے رسولﷺ کی اطاعت کر کے مجھے خوش کیا ہے اس لیے میں تمہارے گناہوں کو بھی معاف کرتا ہوں۔

دوسری جگہ آتا ہے ’’اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘ (آل عمران: 132)، اس آیت مبارکہ میں اطاعت پر ملنے والا انعام یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے گا، دنیا میں خدا تعالیٰ کی ناراضی کی وجہ سے ہمارے اوپر مصائب و مشکلات آتے ہیں، اسی طرح آخرت میں بھی اسے ہی عذاب ہوگا جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوں گے۔

’’یہ اللہ کی قائم کردہ حدود ہیں اور جو بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ایسے باغات میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں بہتی ہوں اور یہ ہمیشہ ہمیشہ اسی جنت میں رہیں گے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے‘‘(سورۃ النساء: 13)، اس آیت مبارکہ میں اطاعت پر ملنے والا انعام یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ایسی جنت عطا فرمائیں گے جس میں نہریں بہتی ہوں اور اسے ہی بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

اطاعت سے منہ موڑنے والوں کی سزا

’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے گا اور اللہ کی قائم کردہ حدود سے آگے بڑھے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو آگ میں ڈال دیں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان کیلئے رسوا کن عذاب ہوگا‘‘ (سورۃ النساء: 14)

’’بے شک اللہ رب العزت اپنے دین کے نہ ماننے والوں پر لعنت بھیجتے ہیں اور ان کو سزا دینے کیلئے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں ان کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا، اس دن منہ کے بل وہ آگ میں ڈالے جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ اے کاش کہ ہم اللہ اور کے رسولؐ کی اطاعت کر لیتے‘‘ (سورۃ الاحزاب: 66،65، 64)، ان آیات مبارکہ میں اطاعت سے روگردانی کرنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کی لعنت، ہمیشہ کی جہنم اور آخرت میں اپنی بدبختی پر حسرت کا تذکرہ ہے۔

اطاعت اس وقت ہوتی ہے جب دل میں اس کے بارے احترام اور محبت کے جذبات ہوں، بحیثیت مسلمان ہم رسول اکرم ﷺ سے محبت کرتے ہیں، بلکہ اپنے والدین، اولاد اور ساری مخلوق سے زیادہ محبت کرتے ہیں، یہی محبت ہمارا ایمان ہے، اسی محبت پر شفاعت کی امیدیں وابستہ ہیں، یہی محبت ہی ہمارے کل دین کی اساس و بنیاد ہے، ہم آپﷺ کے لائے ہوئے دین اور آپﷺ کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق ساری زندگی گزارنے کا فیصلہ کریں گے تو ہمارا دعویٰ محبت سچا ثابت ہو گا، اس کیلئے ہمیں اسلامی تعلیمات کا علم حاصل کرنا ہوگا کیونکہ بغیر علم کے یہ ممکن نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ ہماری زندگیوں میں اسلامی تعلیمات کس قدر ضروری ہیں، علم کے بعد عملاً ایسے طرز پر زندگی گزارنی چاہیے جو سنت رسولﷺ کی عکاس ہو۔

آپﷺ کی محبت جب تک تمام محبتوں پر غالب رہے گی، آپﷺ کی سنت جب تک تمام معاشرتی طور طریقوں پر غالب رہے گی، آپﷺ کی تعلیمات جب تک تمام تعلیمات پر غالب رہیں گی اور سب سے بڑھ کر آپﷺ کی ناموس کی حفاظت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ جب تک دلوں میں باقی رہے گا، ہم اور ہماری نسلوں کا ایمان باقی رہے گا۔ ورنہ خاکم بدہن اس میں کمی آ گئی تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین