خلاصہ
- واشنگٹن: (ویب ڈیسک) نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کے خلاف مقدمے کی سماعت جون 2028 میں ایک فوجی عدالت شروع کرے گی۔
امریکا کے متعدد میڈیا اداروں نے اس بارے میں رپورٹس جاری کیں، جن میں ایک جج کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے، خالد شیخ محمد کو القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے انتہائی اہم اور قریبی ساتھیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور ان کو مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔
خالد شیخ کو گرفتاری کے بعد تین برس تک سی آئی اے کے خفیہ سیلز میں رکھا گیا جبکہ 2006 میں انہیں کیوبا میں قائم فوجی بیس گوانتاناموبے منتقل کیا گیا تھا۔
اسی طرح امریکا نے دو مئی 2007 کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں قتل کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
گیارہ ستمبر 2001 کو ہونے والے اس واقعہ کو ان واقعات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جن کے بعد دنیا میں تبدیلیاں آئیں، اس میں امریکہ کے ٹاورز کے ساتھ جہاز ٹکرائے گئے تھے جس کے نتیجے میں دونوں ٹاور زمین بوس ہو گئے تھے اور تین ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس وقت کی امریکی حکومت نے اس کا الزام القاعدہ پر لگایا تھا جس کے سربراہ اسامہ بن لادن اس وقت افغانستان میں موجود تھے، واقعہ کے قریباً ایک مہینے کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا اور طالبان کی حکومت ختم کر دی تھی۔