پمز ہسپتال میں انتظامی غفلت اور فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق سنگین انکشافات

پمز ہسپتال میں انتظامی غفلت اور فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق سنگین انکشافات

ذرائع کے مطابق ہسپتال میں گزشتہ کئی برس سے ایمرجنسی فائر ڈرل کی مشق نہیں کروائی گئی، جس کے باعث عملے کو ہنگامی صورتحال میں اپنی اور مریضوں کی جان بچانے کی عملی تربیت نہ مل سکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی ڈرل کے دوران میڈیکل عملے کو آگ لگنے کی صورت میں فوری ردعمل، مریضوں کے انخلا اور اپنی حفاظت سے متعلق عملی تربیت دی جاتی ہے، جبکہ ہسپتالوں میں عملے کی فائر سیفٹی ٹریننگ ہر 6 ماہ بعد کرانا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے دوران آکسیجن سلنڈرز بھی آگ کے پھیلاؤ کا باعث بنے، جبکہ ہسپتال کے ایمرجنسی ایگزٹ اور ایگزٹ گیٹس بند رکھے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہنگامی صورتحال کے دوران ہسپتال کا الارم سسٹم بھی بروقت فعال نہ ہوسکا۔

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں سامنے آنے والی مبینہ انتظامی غفلت نے مریضوں اور طبی عملے کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں، پمز کے مختلف شعبوں میں سیکڑوں مریض زیر علاج ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور مریضوں و عملے کے فوری انخلا کیلئے کوئی مؤثر اور مربوط حفاظتی پلان موجود نہیں۔

واقعے کے بعد فائر سیفٹی انتظامات، ایمرجنسی ایگزٹس، الارم سسٹم اور عملے کی تربیت کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی سانحے کی روک تھام یقینی بنائی جاسکے۔