پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت

پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت

انہوں نے کہا کہ 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، ڈی جی ہیلتھ اور سیکرٹری ہسپتال میں ہیں، متعلقہ حکام والدین کے ساتھ رابطے میں ہیں، میں بھی کراچی سے اسلام آباد جا رہا ہوں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر یہ واقعہ کسی کی لاپرواہی سے ہوا ہے تو اس کی تحقیقات ہوں گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اگر اس میں میری بھی غلطی ہوگی تو مجھے بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کے ساتھ ہی ہسپتال میں بجلی چلی گئی تھی، وہاں موجود عملہ ریسکیو کو بلانے کیلئے گیا، لیکن آگ بہت تیزی سے پھیلی، ہسپتال میں آگ بجھانے کے آلات کام کر رہے تھے، پمز ہسپتال اپنی صلاحیت سے زیادہ کام کر رہا ہے، پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کا نظام مثالی نہیں۔

مصطفی کمال کا مزید کہنا تھا کہ نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع ایک انتہائی دلخراش سانحہ ہے، اس ناقابل تلافی نقصان پر متاثرہ خاندانوں کے غم اور دکھ کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

سیکرٹری ہیلتھ محمد اسلم غوری نے کہا کہ نرسری کے اندر 15 بچے موجود تھے جس میں سے ایک بچے کو بچایا جا سکا ہے، بدقسمتی سے 14 بچے جاں بحق ہوئے ہیں، آتشزدگی کے وقت وقت ڈیوٹی پر عملے کے چار لوگ موجود تھے۔