خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر تشکیل دی گئی سانحہ پمز کی تحقیقاتی کمیٹی آج اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیراعظم کی کمیٹی نے تیس سے زائد ملازمین کے بیانات قلم بند کیے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹرز اور نرسز بھی شامل ہیں، چلڈرن وارڈ میں تعینات اٹھارہ سے زائد سکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
کمیٹی نے حادثے کے وقت آن ڈیوٹی عملے کا بائیو میٹرک ریکارڈ بھی چیک کیا، آگ بجھانے کیلئے جانے والے فائر بریگیڈ کے عملے، ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ڈائریکٹر فائر بریگیڈ نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا، کمیٹی نے ریسکیو ٹیمیں کی ٹائم لائن بھی چیک کی۔
سی ڈی اے نے فائر سیفٹی انتظامات کے لیے دوبارہ خط لکھ دیے ہیں جبکہ پمز سانحے کے تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔
وزیراعظم کی انکوائری کمیٹی کے ساتھ ساتھ پمز ہسپتال کی انتظامیہ نے اپنی ایک انکوائری کمیٹی الگ بنادی ہے۔
گزشتہ روز کمیٹی نے ہسپتال کی نرسری کا سی سی ٹی وی ریکارڈ قبضے میں لیا، پمز کے عملے کے بیانات قلمبند کیے، کمیٹی نے فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس کا جائزہ لیا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز سانحہ کا جائزہ لیا، ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور عملے کی معطلی اور وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر مہیش کمار نے ہسپتال کا دورہ بھی کیا اور سوال اٹھایا کہ کل کہا گیا تھا کہ آگ ایئرکنڈیشنر سے لگی، آج پتا چلا کہ اے سی تو چل ہی نہیں رہا تھا، یوں لگتا ہے کہ تمام نرسوں کو بٹھا کر ایک بیان رٹا دیا گیا ہے۔