خلاصہ
- واشنگٹن: (ویب ڈیسک) پاکستان نے باب المندب آبنائے میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیوں کی فوری بندش کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس اہم بحری گزرگاہ کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرے پر دوسری مرتبہ بحث کی۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حوثی ملیشیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان اشتعال انگیز کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرے، کیونکہ ان کے بحری سلامتی، علاقائی امن اور استحکام کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
یہ اجلاس بحرین کی درخواست پر منعقد ہوا، اس سے دو روز قبل سلامتی کونسل کو باب المندب کے اطراف تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال پر بریفنگ دی گئی تھی، بتایا گیا کہ حوثیوں نے یمن کے مغربی ساحل کے ساتھ اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہے اور مبینہ طور پر بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے میں کئی جزائر پر قبضہ کر لیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ آبنائے اور اس کے اطراف کی صورت حال مسلسل زیادہ کشیدہ اور غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔
پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حوثیوں کے حملے بحری سلامتی کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور خطے کے ممالک، خصوصاً مملکت سعودی عرب کے امن اور ترقی کے لیے خطرہ ہیں۔
انہوں نے سعودی عرب کو درپیش حوثیوں کی کارروائیوں کو کھلی اور بلااشتعال جارحیت قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔
پاکستانی سفیر عاصم نے کہا کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں میں تجارتی جہاز رانی میں رکاوٹیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ سمندری تنازعات کے اثرات متاثرہ علاقوں سے کہیں آگے تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں تجارتی جہاز رانی میں خلل اور تجارتی جہازوں پر حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ سمندر میں پیدا ہونے والے بحران براعظموں اور ممالک کے لیے بھی سنگین اثرات رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان اہم بحری گزرگاہوں میں غیر یقینی صورت حال نے نہ صرف امن و استحکام کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ توانائی کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ کیا ہے اور عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم بحری تجارتی راستہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں تجارت ہونے والے خام تیل کا تقریباً ایک تہائی اور کھاد کی تجارت کا ایک اہم حصہ گزرتا ہے، پاکستان آبنائے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں، بشمول تجارتی جہازوں پر حملوں، پر گہری تشویش رکھتا ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے سمندری سلامتی سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو ایران اور امریکا کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جوڑا اور کہا کہ ان بنیادی اصولوں کی رہنمائی میں پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپنے دوستوں اور شراکت داروں کی حمایت سے ہم نے کشیدگی میں کمی اور وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سمندر اور خشکی پر معمول کے حالات کی جلد بحالی کے لیے تمام زیرِ التوا مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان خطے اور اس سے باہر تمام امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر سمندری امن و سلامتی اور تجارتی جہازوں اور بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کا خواہاں ہے۔
بحرین کے نمائندے جمال فارس الروّاعی نے اپنے ابتدائی خطاب میں حوثیوں کی اس کشیدگی کی مذمت کی جو ان کے بقول جنگ بندی کی خلاف ورزی اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کشیدگی نے یمن کے انسانی بحران کو بھی مزید سنگین کر دیا ہے کیونکہ شہریوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑ رہی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ سلامتی کونسل زیادہ فیصلہ کن مؤقف اختیار کرے۔
سعودی عرب کے نمائندے عبدالعزیز ایم الوصل نے خبردار کیا کہ حوثیوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں یمن، علاقائی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور عالمی سپلائی چینز کے لیے خطرہ ہیں، انہوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیا جن میں شہری زخمی ہوئے۔ انہوں نے 14 ستمبر کو ہونے والے نئے حملوں اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کا بھی ذکر کیا۔
چین کے نمائندے سن لی نے صورت حال میں تیزی سے آنے والی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور یمن اور سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کا اعادہ کیا۔
انہوں نے توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کا تحفظ پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور تجارتی جہازوں کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہئے۔