خلاصہ
- لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ٹیکس واجبات کے حتمی تعین سے قبل بھی منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کی جاسکتی ہیں، ٹیکس سیسمنٹ کا حتمی فیصلہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کرنے کے لیے لازمی پیشگی شرط نہیں۔
عدالت نے ٹیکس کارروائی مکمل ہونے تک فوجداری کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے منی لانڈرنگ کی ایف آئی آرز اور تحقیقات ختم کرنے کے لیے دائر 19 آئینی درخواستیں خارج کردیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس خالد اسحاق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا، بینچ کے رکن جسٹس خالد اسحاق نے 31 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ انکم ٹیکس قوانین اور اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے مقاصد الگ الگ ہیں، ٹیکس کا حساب لگانا، ٹیکس واجبات کا تعین اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات دو مختلف قانونی معاملات ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت منی لانڈرنگ ایک الگ جرم ہے، اس لیے صرف اس بنیاد پر تحقیقات نہیں روکی جاسکتیں کہ متعلقہ ٹیکس اتھارٹی نے ابھی ٹیکس واجبات کا حتمی تعین نہیں کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس قوانین میں سیسمنٹ، اپیل اور ریکوری کا اپنا مکمل طریقہ کار موجود ہے، جبکہ منی لانڈرنگ کے معاملے میں فوجداری قانون کے تحت الگ کارروائی ہوسکتی ہے۔
فیصلے کے مطابق منی لانڈرنگ کے لیے کسی بنیادی جرم یا غیر قانونی ذریعے کا وجود ضروری ہے، تاہم بنیادی جرم میں پہلے ملزم کو سزا ملنا لازمی نہیں۔
پراسیکیوشن کو شواہد کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ متعلقہ رقم یا جائیداد مجرمانہ ذریعے سے حاصل ہوئی اور ملزم کو اس غیر قانونی ذریعے کا علم تھا، الزامات حتمی طور پر ثابت ہوئے یا نہیں، اس کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر مجاز عدالت کرے گی۔
دورانِ سماعت درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ جب تک ایف بی آر ٹیکس سیسمنٹ مکمل کرکے واجبات کا حتمی تعین نہیں کرتا، اس وقت تک منی لانڈرنگ کے تحت فوجداری کارروائی شروع نہیں کی جاسکتی، درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ٹیکس معاملہ مکمل کیے بغیر فوجداری کارروائی آئین کے آرٹیکل 4 اور 10-A کے منافی ہے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا کہ ٹیکس قوانین میں سیسمنٹ، اپیل اور ریکوری کا مکمل طریقہ کار موجود ہے، اس لیے پہلے ٹیکس معاملہ طے ہونا چاہیے اور اس کے بعد منی لانڈرنگ سے متعلق کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب ایف بی آر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹیکس سیسمنٹ اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات الگ قانونی معاملات ہیں، منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے ٹیکس واجبات کا حتمی تعین ضروری نہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے دستیاب شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرسکتے ہیں۔
عدالت نے درخواست گزاروں کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا اور واضح کیا کہ دونوں قوانین کے مقاصد، دائرہ کار اور قانونی طریقہ کار مختلف ہیں، اس لیے ایک کارروائی کو دوسری کارروائی کی تکمیل سے مشروط نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے میں سپریم کورٹ کے تاج انٹرنیشنل سے متعلق فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا اور قرار دیا گیا کہ مذکورہ فیصلہ موجودہ مقدمات پر اسی طرح لاگو نہیں ہوتا، عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ مقدمات میں تحقیقات جاری ہیں اور الزامات کا حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ تفتیش کے مرحلے پر صرف الزامات کی بنیاد پر حتمی جرم ثابت نہیں سمجھا جاسکتا، تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر متعلقہ فورم یہ فیصلہ کرے گا کہ منی لانڈرنگ کا جرم ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔
عدالت نے ان قانونی نکات کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کی ایف آئی آرز اور تحقیقات ختم کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تمام 19 آئینی درخواستیں خارج کردیں۔