جب تک عمران خان نہیں کہیں گے، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ رہیں گے: جنید اکبر

جب تک عمران خان نہیں کہیں گے، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ رہیں گے: جنید اکبر

پروگرام ’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر کا کہنا تھا کہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں خیبرپختونخوا کے عوام اور ہم نے دی ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام ان کا بیانیہ پہلے بھی مسترد کر چکے ہیں اور آئندہ بھی مسترد کریں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ مخالفین جتنی مرضی پریس کانفرنسز کرلیں، عوام ان کو دیکھنا نہیں چاہتے، ہماری تیاری مکمل تھی، اسی لیے حکومت نے اتنی بڑی تعداد میں کنٹینرز اور پولیس فورس تعینات کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پریشان تھی۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے لیے ’’تیاری‘‘ کا لفظ کوئی خاص معنی نہیں رکھتا، ہمارے کارکن 24 گھنٹے میں ہی باہر نکل آتے ہیں، بیک چینل مذاکرات ان کے علم میں نہیں، تاہم سیاسی لوگوں کے درمیان رابطے ہمیشہ رہتے ہیں۔

جنید اکبر نے کہا کہ ہم نے ہر فورم استعمال کیا ہے، ملک ہمارا اور ادارے ہمارے ہیں، اس لیے ڈائیلاگ کے ذریعے راستہ نکالا جانا چاہیے، ہماری پہلی ترجیح ملک ہے، سیاست بعد میں ہے۔

علی امین گنڈاپور سے متعلق سوال پر جنید اکبر کا  کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہیں رہے، اس لیے مناسب نہیں کہ وہ علی امین گنڈاپور کے بیان پر تبصرہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایکس، وائی، زیڈ کی کوئی اہمیت یا حیثیت نہیں، ہر شخص کی خواہشات الگ ہوسکتی ہیں، تاہم فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا ہوتا ہے اور ان کا فیصلہ سب کے لیے قابل قبول ہوتا ہے۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی نہیں کہیں گے، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ رہیں گے، سہیل آفریدی کے ساتھ لوگ اور کارکن جڑے ہوئے ہیں۔

جنید اکبر کا مزید کہنا تھا کہ پس پردہ ہمیشہ رابطے ہوتے رہتے ہیں، تحریک انصاف نے چار رکنی مذاکراتی کمیٹی بھی بنائی ہے اور پارٹی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے اسلام آباد کو فتح نہیں کرنا۔