خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) انسداد دہشت گردی کے معاملات پر مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئے جس سے حکومت اور اپوزیشن کی بیٹھک بے نتیجہ ختم ہوگئی۔
اس نئی ڈویلپمنٹ کے بعد مذاکراتی کمیٹی کے ارکان سپیکر چیمبر سے چلے گئے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہفتے کی دوپہر سے جاری تھے۔
ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی کے معاملات پر مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوئے، پی ٹی آئی دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ضروری انتظامی اقدامات کرنے سے پیچھے ہٹ گئی، اگر دہشت گردی پر بات آگے نہیں بڑھتی تو باقی کسی چیز پر بھی آگے نہیں جائے گی۔
اپوزیشن رہنما علامہ ناصر عباس کا کہنا ہے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، بانی سے ملاقات ہونے تک معاملات فائنل نہیں ہوں گے، کافی چیزوں پر بات چیت ہو گئی تھی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مملکت آصف زرداری سے ملاقات بھی کی، وزیر داخلہ نے مسودہ پر اعلیٰ سیاسی قیادت اور قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کی۔
اسی بیچ وزیر داخلہ محسن نقوی دوبارہ سپیکر چیمبر پہنچ گئے، صحافی نے سوال کیا کہ مذاکرات میں کیا پیشرفت ہوئی؟ کیا کوئی خوشخبری ہے؟ اس پر محسن نقوی مسکرا دیے۔
سپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات ہوئے، حکومت کی جابب سے محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طلال چودھری، طارق فضل چودھرتی شریک تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی کیلئے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر، اعجاز جاکھرانی نے حصہ لیا۔
اپوزیشن رہنماؤں میں بیرسٹر گوہر، علامہ ناصر عباس ، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور عامر ڈوگر شامل تھے، سپیکر نے ذاتی خرچ سے حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔