آذربائیجانی خاتون ڈیانا پاکستانی پولیس افسران کے ساتھ باکو روانہ

آذربائیجانی خاتون ڈیانا پاکستانی پولیس افسران کے ساتھ باکو روانہ

ذرائع کے مطابق ڈیانا کو پی کے 159 پرواز کے ذریعے باکو روانہ کیا گیا۔ اے ایس پی ڈیفنس سمیت 3 پولیس افسران نے اپنی نگرانی میں خاتون کی ایئرپورٹ پر بورڈنگ مکمل کروائی اور تینوں افسران بھی ڈیانا کے ہمراہ باکو روانہ ہوئے۔

ذرائع کے مطابق سفارت خانے کی درخواست پر پولیس افسران کو ڈیانا کے ساتھ آذربائیجان بھیجا گیا۔ پولیس ٹیم میں اے ایس پی ڈیفنس سمیت دیگر افسران اور ایک خاتون پولیس اہلکار بھی شامل تھی۔

ڈیانا روانگی تک لاہور ایئرپورٹ پر ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کی نگرانی میں رہیں، جس کے بعد اسے باکو جانے والی پرواز میں سوار کرایا گیا۔

خیال رہے کی ڈیانا دو روز قبل آذربائیجان جانے والی پرواز سے اتر گئی تھیں اور انہوں نے اپنے ملک واپس جانے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد وہ لاہور ایئرپورٹ پر موجود رہیں۔

خیال رہے کہ 29 ستمبر کو عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کے مطابق، ڈیانا 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی تھی۔ وہ پانچ روز فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور آگئی، جہاں سے اس کا اسکردو جانے کا ارادہ تھا۔ تاہم اکیلی ہونے کے باعث اس نے اپنی جان پہچان کی نمرہ اور مسکان کو لاہور میں ملاقات کے لیے پیغام بھیجا۔

بیان کے مطابق رات 11 بجے ڈیانا اکیلی ایک کیفے گئی، جہاں مسکان بھی اس کے پاس پہنچ گئی۔ دونوں نے وہاں کھانا کھایا، جس کے بعد رات تقریباً 2 بجے ایک سفید رنگ کی گاڑی آئی اور دونوں ایک اپارٹمنٹ میں چلی گئیں۔ وہاں مزید دو لڑکے پہنچے، جن میں سے ایک کا نام علی زین بتایا گیا ہے۔

عدالتی بیان کے مطابق نمرہ نے محسن سے 20 سے 30 ہزار روپے لیے اور بتایا کہ یہ رقم پارٹی کے لیے ہے۔ بعد ازاں محسن نے مبینہ طور پر ڈیانا کو چھونے کی کوشش کی اور اسے ایک الگ کمرے میں بند کردیا۔ ڈیانا نے جب نمرہ اور مسکان کے بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ دونوں جاچکی ہیں۔

بیان کے مطابق ڈیانا نے وہاں سے جانے کی اجازت مانگی تو لڑکوں نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ نہیں جاسکتی کیونکہ اس کی دوست پیسے لے چکی ہے۔ ڈیانا نے انہیں 30 ہزار روپے دینے کی پیشکش بھی کی، تاہم علی زین پر مبینہ طور پر دھمکانے اور بلیک میل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

ڈیانا کے بیان کے مطابق ملزمان نے اسے شراب پینے کے لیے کہا، جس کے بعد محسن، احمد اور علی زین نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ زیادتی کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بعد ازاں جب ڈیانا کو گاڑی میں لے جایا جا رہا تھا تو اس کے بیگ میں 2 لاکھ روپے اور دو موبائل فون موجود تھے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر کہا کہ پولیس کو شکایت نہ کرنے کی صورت میں ہی بیگ واپس کیا جائے گا۔

عدالتی بیان کے مطابق بعد میں احمد اور علی زین نے گاڑی کا دروازہ کھول کر ڈیانا کو باہر دھکا دے دیا۔ ڈیانا نے وہاں موجود لوگوں سے پولیس کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دینے کی درخواست کی، جس پر لوگوں نے مدد کی اور پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

دوسری جانب آذربائیجانی خاتون ڈیانا سے مبینہ زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزمان محسن اور علی زین کے بیانات سامنے آئے تھے۔ دونوں ملزمان نے خاتون سے زیادتی کے الزام سے انکار کیا تھا۔

ملزمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے غیر ملکی لڑکی سے صرف رسمی گپ شپ کی تھی، جبکہ لڑکی اپنی مرضی سے فلیٹ پر رات کو رکی تھی۔

ملزمان نے بتایا کہ لڑکی اپنی دوستوں مسکان اور نمرہ کے ذریعے فلیٹ پر آئی تھی۔

پولیس کی جانب سے پوچھا گیا کہ کیا احمد تنویر نے ڈیانا سے زیادتی کی؟ اس پر ملزمان نے جواب دیا تھا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

ملزمان کے بیان کے مطابق رات کو سونے تک سب کچھ معمول کے مطابق اور طے شدہ پلان کے مطابق ہوا۔