خلاصہ
- اوکاڑہ: (دنیا نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے عوام پر معاشی دہشت گردی مسلط کی گئی ہے، جس کے خاتمے کا مطالبہ اب پوری قوم کر رہی ہے۔
پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عوام مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باعث پریشان ہیں، جبکہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں میں مصروف ہے، یہاں ہونے والا جلسہ پنجاب کی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں عوام کے مسائل اور ان کی پریشانیوں پر کوئی آواز نہیں اٹھائی جا رہی تھی، تاہم جماعت اسلامی نے عوامی مسائل کو نئی زبان دی ہے اور ان کے حل کے لیے تحریک چلائی ہے، جماعت اسلامی کی جدوجہد نے ملک بھر میں عوام کے اندر ایک نئی امید پیدا کی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو دیا جانے والا ریلیف ناکافی اور جزوی ہے، حکومت ماہانہ 27 ارب روپے تک ریلیف فراہم کر رہی ہے، جبکہ لیوی کی مد میں 150 ارب روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو بھتہ اور جگا ٹیکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے بیک وقت 42 شہروں میں مسلسل دھرنے دیے، جن کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ کرنا تھا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنے لانگ مارچ کو فی الحال وقفہ دیا ہے، تاہم عوام اور کارکن دوبارہ لانگ مارچ کے لیے تیار ہیں۔
بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کے معاملے پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جب جماعت اسلامی نے اس حوالے سے تحریک شروع کی تو عوام کی بڑی تعداد کو اس مسئلے کی مکمل آگاہی نہیں تھی۔
اُنہوں نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کا بوجھ بھی عوام برداشت کرتے ہیں اور بجلی پیدا نہ ہونے کی صورت میں ادائیگیاں بھی عوام ہی کے ذمے آتی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے خاتمے اور انہیں ریلیف دلانے کے لیے اپنی تحریک جاری رکھے گی، عوامی مسائل کے حل کے لیے احتجاجی جدوجہد اور لانگ مارچ کے آپشن موجود ہیں۔