چائنا کمیونسٹ پارٹی کا عوام سے جڑے رہنے کا ماڈل قابلِ تقلید ہے: اسحاق ڈار

چائنا کمیونسٹ پارٹی کا عوام سے جڑے رہنے کا ماڈل قابلِ تقلید ہے: اسحاق ڈار

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے وزیر لیو ہائی شنگ کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ دورۂ پاکستان پر چینی وزیر کا خیرمقدم کرتے ہیں، چینی صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت کو سراہتے ہیں، پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی اپنی تاسیس کی 105 ویں سالگرہ منا رہی ہے، صدر شی کی زیرِ قیادت چین نے عوام دوست حکمرانی کے ذریعے قومی احیا کا سفر طے کیا، پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے فائیو پوائنٹ پیس انیشی ایٹو کا آغاز کیا۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ چین پاکستان سیاسی پارٹیز کا فورم اور سی پیک جوائنٹ کنسلٹیشن میکانزم اہم پلیٹ فارم ہیں، چین نے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا، جو عالمی سطح پر ایک تاریخی شراکت ہے، پاکستان، چین سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری باہمی اعتماد، احترام اور تعاون پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے درمیان تعاون قائم ہے، پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی مشاورت کا میکانزم موجود ہے، ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، چین کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ سی پیک سیاسی جماعتوں کے مشترکہ مشاورت میکانزم کے تحت مزید مستحکم ہوگا، پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے، عوام کی فلاح اور پارٹی کی اصل روح پر توجہ شی جن پنگ سوچ کا بنیادی نکتہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی میں پارٹی بلڈنگ اور خود احتسابی کا اہم کردار ہے، چین کمیونسٹ پارٹی کا عوام سے جڑے رہنے کا ماڈل قابلِ تقلید ہے، سیاسی جماعتوں میں شفافیت اور احتساب جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے، پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک پارٹنرشپ خطے میں استحکام کی ضمانت ہے۔

چینی وزیر لیو ہائی شنگ نے کہا کہ آج کے چین کو سمجھنے کے لیے چینی کمیونسٹ پارٹی کو سمجھنا ضروری ہے، چین کے صدر شی جن پنگ نے نئے اسٹریٹجک تصورات متعارف کرائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہو گئے ہیں، چین کے نظامِ حکمرانی کے پیچھے مضبوط سیاسی جماعت موجود ہے۔

چینی وزیر نے کہا کہ شی جن پنگ کے جماعتی تنظیم سازی کے نظریے کو سمجھنا ہوگا۔

اس موقع پر سینیٹر شیری رحمان نے کہ پاکستان اور چین کے درمیان طرزِ حکمرانی پر تبادلہ خیال وقت کی ضرورت ہے، پاکستان اور چین کے درمیان باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی مضبوط تعلقات قائم ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے، چین کی مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی قابل تقلید ہے، شی جن پنگ سوچ عوامی فلاح، گڈ گورننس اور کرپشن کے خاتمے پر زور دیتی ہے۔