خلاصہ
- کراچی: (دنیا نیوز) چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو جامعات کے مسائل کا بخوبی اندازہ ہے، صوبے کی سرکاری جامعات کو 44 ارب 460 ملین روپے کی گرانٹ دی جا رہی ہے۔
چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کا اجلاس ہوا جس میں سندھ کی 32 سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز، چیئرمین سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے شرکت کی۔
اجلاس میں جامعات کو درپیش مالی، انتظامی اور تعلیمی مسائل کا جائزہ لیا گیا، وائس چانسلرز نے اپنی جامعات کو درپیش مسائل اور ضروریات سے چیف سیکرٹری کو آگاہ کیا۔
آصف حیدر شاہ نے کہا کہ جامعات کے مسائل اور ان کا حل وائس چانسلرز سے سننا اجلاس کا اہم مقصد تھا، وفاقی حکومت سے متعلق جامعات کے مسائل کے حل کے لیے وفاق سے رابطہ کیا جائے گا۔
چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بتایا کہ سندھ دیگر صوبوں کے مقابلے میں جامعات کو زیادہ گرانٹ اِن ایڈ دیتا ہے۔
اجلاس میں وائس چانسلرز نے بتایا کہ پنشن اور بجلی کے بل جامعات کے بڑے اخراجات میں شامل ہیں، نجی جامعات زیادہ تنخواہیں دے کر سرکاری جامعات سے اچھے اساتذہ ہائر کر رہی ہیں جس کے باعث سرکاری جامعات کو ماہر فیکلٹی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے، بیرون ملک جانے والے بعض اساتذہ بھی واپس نہیں آنا چاہتے۔
اجلاس میں پاکستان نرسنگ کونسل اور پی ایم ڈی سی سے منظوری میں تاخیر، رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت غیر متعلقہ معلومات طلب کیے جانے اور جامعات میں امن و امان اور منشیات کی روک تھام سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔
وائس چانسلرز نے کہا کہ بین الاقوامی طلبہ کو جامعات کی جانب راغب کرنے کے لیے وزارت خارجہ کی معاونت درکار ہے۔
اجلاس میں جامعات کے ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینے، مالی و انتظامی نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے اور اسکل ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ جامعات میں پنشن کے واجبات بڑا مسئلہ ہیں، نان فیکلٹی بھرتیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے، جامعات کے سینڈیکیٹس سے متعلق سفارشات صوبائی کابینہ میں پیش کی جائیں گی جبکہ یونیورسٹی سینڈیکیٹس میں تعلیم سے وابستہ افراد کو شامل کیا جائے گا۔
آصف حیدر شاہ نے جامعات کی ترقی میں المنائی کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جامعات حکومت کو تحقیقی منصوبے پیش کریں، تحقیق کو ایکریڈیٹ اور صنعتی شعبے سے منسلک کیا جائے جبکہ سندھ کی جامعات عالمی جامعات کے ساتھ بھی روابط قائم کریں۔
انہوں نے کہا کہ نئے کیمپسز کے قیام سے پہلے جامع تحقیق اور فزیبلٹی سٹڈی کی جائے، اس حوالے سے جامع پالیسی اور واضح بینچ مارکس مقرر کیے جائیں۔
چیف سیکرٹری سندھ کا کہنا تھا کہ جامعات کے بجلی کے اخراجات کم کرنے کے لیے سولرائزیشن کا منصوبہ لایا جائے گا جبکہ جامعات غیر قانونی بجلی کے کنکشن ختم کریں۔
اجلاس میں پروفیسرز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 65 سال کرنے کی سمری صوبائی کابینہ کو بھجوانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بتایا کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے جامعات کو 60 ملین روپے دیے جا رہے ہیں جبکہ رواں سال جامعات میں بین الاقوامی کانفرنسز کے لیے 50 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔
کمیشن کے مطابق پرو وائس چانسلرز اور ڈینز کے لیے سٹریٹجک لیڈرشپ پروگرام جبکہ رجسٹرارز اور فیکلٹی ممبران کے لیے پروفیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
چیف سیکرٹری سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت جامعات کے مسائل کے حل کے لیے وائس چانسلرز سے مشاورت جاری رکھے گی۔