خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) ماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے پاکستان سمیت آج دنیا بھر میں مدر ڈے منایا جا رہا ہے لیکن آج کا یہ دن بھی اولڈ ایج ہوم میں بیٹھی ماؤں دکھ کم نہیں کر سکتا۔
مدر ڈے ایک ایسا دن ہے جب دنیا بھر میں ماؤں سے محبت کے دعوے کیے جاتے ہیں، تحفے دیے اور تصویریں بنائی جاتی ہیں لیکن کچھ مائیں ایسی بھی ہیں جن کے حصے میں صرف انتظار آیا ہے، اپنے بچوں کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کی آواز سننے کا کا انتظار جو اندر ہی اندر انہیں کھائے جاتا ہے۔
ماں وہ ہستی ہے جو اپنی پوری زندگی اولاد پر قربان کر دیتی ہے، اپنی نیندیں، خوشیاں اور اپنی خواہشیں، سب بچوں کے نام کر دیتی ہے، ایک ماں اکیلے اپنے کئی بچوں کو سنبھال لیتی ہے، اولاد کی ہر ضرورت، دکھ اور ہر خوشی کو اپنا سمجھتی ہے مگر افسوس کہ وہی بچے بڑے ہوتے ہیں تو اپنی ایک ماں کا سہارا بھی نہیں بن پاتے۔
اولڈ ایج ہوم میں بیٹھی ماؤں کی نم آنکھی، کپکپاتے ہاتھ اور دروازے کی طرف اُٹھی نظریں سوال کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ کیا واقعی ہم اتنا بوجھ بن گئی تھیں کہ ہمیں اپنی ہی اولاد نے تنہا چھوڑ دیا؟ لیکن در حقیقت یہ مائیں شکوہ نہیں کرتیں، بلکہ آج بھی اپنے بچوں کیلئے دعا ہی مانگتی ہیں، شاید یہی ماں کی محبت ہے جو تکلیف میں بھی بددعا نہیں دیتی۔
ایک ماں کا کہنا تھا کہ میرے بچے مجھے یہاں چھوڑ گئے، شاید انہیں اب میری ضرورت نہیں رہی، مگر میں آج بھی ان کیلئے دعائیں کرتی ہوں، کچھ ماؤں کا کہنا تھا کہ کبھی ان کی زندگی بھی خوشگوار تھی، گھر آباد تھا، شوہر ساتھ تھا تو بچے قریب تھے لیکن اب ان کے پاس صرف یادیں اور انتظار ہے۔