آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں کن ممالک اور شخصیات نے شرکت کی؟

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں کن ممالک اور شخصیات نے شرکت کی؟

آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کی آخری رسومات میں پاکستان، چین، روس، سعودی عرب، قطر، بھارت، ترکیہ، افغانستان، عراق، بوسنیا، ہنگری، بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے شرکت کی۔

تقریب میں سرکاری حکام کے علاوہ بھی کئی ممالک کے علماء اور دیگر شخصیات، مختلف تنظیموں کے ارکان اور وفود بھی ذاتی حیثیت میں شریک ہوئے اور ایرانی قیادت سے تعزیت اور آخری رسومات میں شرکت کی۔

پاکستان سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ اعلیٰ سطح کے سرکاری وفد نے اس تقریب میں شرکت کی، وفد میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، قادر پٹیل سمیت سرکاری حکام شامل تھے۔

پاکستان کے ممتاز شیعہ علماء کا ایک وفد بھی اس تقریب میں شرکت کے لیے تہران پہنچا ہے جس میں علامہ ساجد نقوی، علامہ جواد نقوی، راجہ ناصر عباس، علامہ شبیر حسن میثمی اور دیگر علماء شامل تھے۔

عرب میڈیا کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک میں سے چار اہم ممالک سعودی عرب، بحرین، قطر اور عمان نے کشیدگی کے باوجود اپنے وفود تہران بھیجے جب کہ متحدہ عرب امارات اور کویت کے ایران میں تعینات سفیروں اور دیگر نمایاں شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

چین کی جانب سے نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین ہی وی کی قیادت میں وفد اس تقریب میں شریک ہوا، روس کی نمائندگی صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی ترین ساتھی اور سابق صدر و وزیراعظم دمتری میدویدیف نے کی، روسی علماء کونسل کا ایک وفد بھی اس تقریب میں شریک ہوا اور تعزیتی پیغام پہنچایا۔

افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امیر خان متقی کابل میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا بیگدلی کے ہمراہ خصوصی پرواز سے تہران پہنچے۔

کابل کی سابقہ حکومت کے اہم رہنما اور طالبان مخالف گروپ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود بھی اس تقریب میں ذاتی حیثیت میں شریک ہوئے، احمد مسعود طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے پہلے روز لبنان، عراق اور یمن میں ایران کے حامی عسکری گروہوں کے اعلیٰ ترین کمانڈرز اور وفود شریک ہوئے، اس کے علاوہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں حماس اور فلسطین اسلامک جہاد کے نمائندے بھی اس تقریب میں شامل ہوئے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے بھارت کی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کا اعلیٰ سطح وفد بھی تہران پہنچا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیرِاعلیٰ محبوبہ مفتی بھی شریک ہوئیں۔

عراق کے صدر اور پارلیمنٹ کے سپیکر ، آرمینیا کے وزیراعظم، ترکیہ کے نائب صدر، سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ، قطر کی شوریٰ کونسل کے سپیکر، عمان اسٹیٹ کونسل کے چیئرمین، یمن کے نائب صدر، مصر کی سینیٹ کے سپیکر، بیلاروس کے ایوانِ نمائندگان کے سپیکر شریک ہوئے۔

جارجیا کے صدر، سربیا کے وزیر اطلاعات و ٹیلی کمیونیکیشن، ترکمانستان کے قومی رہنما، ازبکستان کی پارلیمنٹ کے سپیکر، قازقستان کے وزیر خارجہ، کرغزستان کی پارلیمنٹ کے سپیکر، بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے سپیکر، ملائیشیا کے خصوصی ایلچی، میانمار کے خصوصی ایلچی، تھائی لینڈ سے شیعہ مسلم تنظیموں کے نمائندے، برکینا فاسو کے وزیر خارجہ شریک ہوئے۔

اسی طرح جمہوریہ کانگو کے وزیر خارجہ، نمیبیا کے صدارتی امور کے وزیر، نکاراگوا کے وزیر خارجہ نے شرکت کی، شنگھائی تعاون تنظیم ، اسلامی تعاون تنظیم ، ڈی 8 تنظیم کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔