سو سال بعد پہلی جنگِ عظیم کے 9500 پنجابی فوجیوں کو جنگی شہداء کا درجہ مل گیا

سو سال بعد پہلی جنگِ عظیم کے 9500 پنجابی فوجیوں کو جنگی شہداء کا درجہ مل گیا

نو آبادیاتی دور کی پالیسیوں کے باعث ان شہداء کو طویل عرصے تک جنگی ہلاکتوں میں شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی قبروں کو جنگی قبرستانوں کا درجہ ملا تاہم تاریخی ریکارڈ کی ازسرِنو جانچ کے بعد ان کی قربانیوں کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان فوجیوں کا اصل ریکارڈ ہاتھ سے لکھی دستاویزات کی صورت میں لاہور عجائب گھر کے تہہ خانے میں محفوظ تھا جو برسوں تک نظر انداز رہا، بعد میں تحقیق کے ذریعے ان ریکارڈز کی بنیاد پر فوجیوں کی شناخت کی گئی اور انہیں سرکاری فہرست میں شامل کیا گیا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق ان فوجیوں میں مسلمان، سکھ اور ہندو شامل تھے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ برصغیر کے مختلف علاقوں اور برادریوں کے لاکھوں افراد نے عالمی جنگوں میں حصہ لیا۔

تاریخ دانوں کے مطابق پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران متحدہ ہندوستان سے لاکھوں افراد نے برطانوی افواج میں خدمات انجام دیں جن میں سے بڑی تعداد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاہم نوآبادیاتی دور کے باعث کئی دہائیوں تک ان کی قربانیوں کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ فیصلہ ان فوجیوں کی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ عالمی جنگوں میں برصغیر کے سپاہیوں کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔