خلاصہ
- بیجنگ: (ویب ڈیسک) شنگھائی کی ایک چینی کمپنی نے دماغ میں پیوند لگانے کا ایسا نیا طریقہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے ذریعے کھوپڑی کھولنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور پیوندکاری کا عمل صرف 10 منٹ میں مکمل کیا جاسکے گا۔
چینی کمپنی سٹیر میڈ ٹیکنالوجی کے مطابق اس طریقے میں آلہ گردن کی ایک رگ کے ذریعے جسم میں داخل کیا جائے گا اور خون کی نالیوں کے راستے دماغ تک پہنچایا جائے گا، کمپنی کے شریک بانی ژاؤ ژینگ تو کے مطابق آلہ دماغی بافتوں کے اندر نصب ہونے کے بجائے خون کی نالی کی بیرونی دیوار کے ساتھ نصب ہوگا۔
شنوو سپتال سے وابستہ ڈاکٹر دوان وان رو کے مطابق درمیانے درجے کی مہارت رکھنے والا ماہرِ جراحی بھی یہ عمل تقریباً 10 منٹ میں مکمل کرسکتا ہے، اس کے برعکس بعض دیگر دماغی پیوندکاری کے طریقوں میں کھوپڑی کھولنے اور برقی آلات نصب کرنے کے لیے تقریباً 2 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سٹیر میڈ نے گزشتہ ایک سال کے دوران سرمایہ کاروں سے 1.1 ارب یوآن سے زائد، یعنی تقریباً 16 کروڑ 30 لاکھ ڈالر حاصل کیے ہیں، جن میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
تاہم کمپنی کے دعوے کے باوجود یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے، آلہ فی الحال بھیڑوں پر آزمایا جارہا ہے اور انسانوں پر اس کے طبی تجربات شروع نہیں ہوئے، اس لیے 10 منٹ میں پیوندکاری کا دعویٰ ابھی عملی طور پر ثابت ہونا باقی ہے۔
دماغی پیوندکاری کے شعبے میں دیگر کمپنیاں بھی خون کی نالیوں کے ذریعے آلات دماغ تک پہنچانے پر کام کر رہی ہیں، امریکی اور آسٹریلوی مریضوں میں ایک دوسری کمپنی کا ایسا آلہ پہلے ہی آزمایا جاچکا ہے، تاہم اس کا آلہ خون کی نالی کے اندر رہ کر دماغی سگنلز حاصل کرتا ہے جبکہ سٹیر میڈ کا آلہ خون کی نالی کے باہر نصب کرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہونے والے پیوند شدہ آلات کی عالمی مارکیٹ میں تیزی سے اضافے کی توقع ہے، ماہرین کے مطابق اگر پیوندکاری کا عمل مختصر اور نسبتاً آسان ہوجائے تو ہسپتالوں کے لیے اس ٹیکنالوجی کو طبی نظام کا حصہ بنانا زیادہ آسان ہوسکتا ہے۔