خلاصہ
- انجکشن کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین بنانے کا سہرا جوناس سالک اور ان کے ساتھیوں کے سر ہے۔ ان کی تیار کردی ویکسین کو 12 اپریل 1955ء میں محفوظ قرار دیا گیا۔ منہ کے ذریعے دی جانے ویکسین البرٹ سابن نے بنائی جسے 1961ء میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جانے لگا۔
لاہور: (روزنامہ دنیا) پاکستان کا شمار ان چند ایک ممالک میں ہوتا ہے جہاں پولیو کا مکمل خاتمہ نہیں ہو پایا۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اس مرض کو ختم کیا جا چکا ہے اور یہ پولیو ویکسین کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس ویکسین کا مقصد پولیو سے تحفظ ہے۔ پولیو ویکسین دو اقسام کی ہوتی ہے اور اسے دو طرح سے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ایک کو منہ اور دوسری کو انجکشن کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ 1988ء میں پولیو کے مرض میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق ساڑھے تین لاکھ تھی جو 2015ء میں گھٹ کر محض 74 رہ گئی۔
پاکستان میں پولیو کے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔ لگاتار ویکسی نیشن کی وجہ سے ان کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے لیکن تاحال اس مرض پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر بچے کو پولیو کی ویکسین دی جانی چاہیے لیکن پاکستان میں بعض ناسمجھ والدین پولیو کی ویکسین پلانے کی مزاحمت کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے بچوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیکن تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ پولیو ویکسین انتہائی محفوظ ہے۔ یہاں تک کہ اسے دوران حمل یا ایڈز کے مریضوں کو بھی دیا جا سکتاہے۔ عالمی ادارہ صحت اسے مؤثر اور محفوظ ترین ادویات یا ویکسین میں شمار کرتا ہے۔ انجکشن کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین بنانے کا سہرا جوناس سالک اور ان کے ساتھیوں کے سر ہے۔ ان کی تیار کردی ویکسین کو 12 اپریل 1955ء میں محفوظ قرار دیا گیا۔ منہ کے ذریعے دی جانے ویکسین البرٹ سابن نے بنائی جسے 1961ء میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جانے لگا۔ انہوں نے یہ کام ایک ٹیم کے ساتھ مل کر کیا جس کی وہ سربراہی کررہے تھے۔

پولیو ویکسین بنانے کے کام کا باقاعدہ آغاز 1935ء میں ہوا۔ اس مقصد کے لیے امریکا میں دو تحقیقاتی ٹیمیں بنائی گئیں۔ ان میں سے ایک نے نیویارک یونیورسٹی اور دوسری نے ٹیمپل یونیورسٹی فلاڈلفیا میں تجربات کیے، تاہم کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا۔ ویکسین بنانے کے لیے دونوں کے تجربات ناکام ہو گئے۔ نیویارک یونیورسٹی میں ایسی ہی ایک اور کوشش 1936 میں کی گئی لیکن بنائی گئی ویکسین پولیو کے خلاف بے اثر ثابت ہوئی۔ امریکا میں 1948ء میں جان اینڈرز کی سربراہی میں محققین کی ایک ٹیم نے چلڈرنز ہاسپٹل میں ایک اہم پیش رفت کی۔ تاہم ابھی تک باقاعدہ ویکسین تیار نہیں ہوئی تھی۔ 1952ء اور 1953ء میں امریکا میں پولیو کے مرض میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔ ان دو سالوں میں بالترتیب 58 ہزار اور 35 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔ عام طور پر یہ تعداد 20 ہزار سالانہ ہوا کرتی تھی۔ ان حالات میں تحقیق کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔ دوا ساز کمپنیوں کو بھی نظر آنے لگا کہ اگر ویکسین تیار ہو گئی تو اس کی بڑی منڈی موجود ہو گی۔ اس حوالے سے سب سے اہم پیش رفت جوناس سالک اور یونیورسٹی آف پیٹس برگ کی ایک ٹیم نے 1952ء میں کی۔ وہ مؤثر پولیو ویکسین بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم ہر ویکسین اور دوا کی طرح اسے آزمانا ضروری تھا۔

مارچ 1953ء میں چند بالغوں اور بچوں پر اسے آزمایا گیا اور اس کے نتائج ایک جریدے میں شائع کیے گئے۔ فروری 1954ء میں اسے متعدد دیگر بچوں پر آزمایا گیا۔ اس کے بعد آزمائش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا اور اس میں لاکھوں بچوں کو شامل کر لیا گیا۔ بالآخر 12 اپریل 1955ء کو نتائج کا اعلان کر دیا گیا۔ اسی برس امریکا میں بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن کا عمل شروع کر دیا گیا۔ امریکا میں پولیو کے کیسز کم ہونے لگے اور 1961ء میں صرف 161 کی اطلاع آئی۔ دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کی باقاعدہ مہم کا آغاز 1988ء میں ہوا۔ اس میں منہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین کو استعمال میں لایا گیا۔ عالمی ادارہ صحت اس مہم میں پیش پیش رہا۔ 1994ء میں براعظم امریکا میں پولیو کا خاتمہ ہو گیا۔ 2002ء میں براعظم یورپ کو بھی پولیو سے آزاد قرار دے دیا گیا۔
بدقسمتی سے پاکستان میں یہ مرض ختم نہیں ہو سکا جس ایک بڑی وجہ پولیو ویکسین کے بارے میں پھیلائی جانے والی لغو اور بے معنی باتیں ہیں۔ ایک اور وجہ شدت پسندوں کی عسکری کارروائیاں اور بعض علاقوں میں اثر ہے جس کی وجہ سے پولیو ٹیمیں ان علاقوں تک نہیں پہنچ پاتیں۔ ان میں بالخصوص وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات شامل ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا سے پولیو کے خاتمے کا وقت قریب آ چکا ہے۔ اگر مزید سنجیدہ کوشش کر لی جائیں تو یہ ممکن ہوگا۔