یوٹیوب نے ویوز گننے کا طریقہ تبدیل کردیا، نئی پالیسی 24 اگست سے نافذ ہوگی

یوٹیوب نے ویوز گننے کا طریقہ تبدیل کردیا، نئی پالیسی 24 اگست سے نافذ ہوگی

یوٹیوب کے مطابق اب کسی بھی ویڈیو کے پلے ہوتے ہی اسے ایک ویو شمار کیا جائے گا، طویل ویڈیوز کے لیے یہ تبدیلی 24 اگست سے نافذ ہوگی، اس سے قبل تقریباً ایک سال پہلے شارٹس ویڈیوز کے لیے بھی ویوز گننے کے طریقہ کار میں اسی نوعیت کی تبدیلی کی گئی تھی۔

یوٹیوب نے اپنی کمیونٹی پوسٹ میں بتایا کہ ماضی میں ویوز گننے کے لیے مختلف نظام استعمال کیے جاتے رہے ہیں، تاہم صارفین کی جانب سے یہ شکایات سامنے آئی تھیں کہ موجودہ طریقہ کار بعض اوقات الجھن پیدا کرتا ہے، اسی لیے نیا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

نئے طریقہ کار کے نتیجے میں یوٹیوب پر ویوز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر ان ویڈیوز میں جنہیں صارفین بہت کم وقت کے لیے دیکھتے ہیں۔

یوٹیوب نے واضح کیا ہے کہ سابقہ ویو کاؤنٹ بھی برقرار رہے گا، تاہم اسے اب انگیجڈ ویوز کا نام دیا جائے گا، صارفین یہ تفصیلات یوٹیوب کے اینالیٹکس ٹولز کے ذریعے دیکھ سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق ویوز گننے کے طریقہ کار میں اس تبدیلی سے صارفین کی آمدنی یا یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شمولیت کی اہلیت متاثر نہیں ہوگی۔

یوٹیوب کا نیا طریقہ کار ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کے موجودہ نظام سے ملتا جلتا ہے، جہاں ویڈیو پلے ہوتے ہی اسے ویو شمار کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب یوٹیوب نے پلیٹ فارم سے آمدنی حاصل کرنے کے لیے پارٹنر پروگرام کی شرائط بھی سخت کردی ہیں۔

پہلے یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شمولیت کے لیے چینل پر کم از کم ایک ہزار سبسکرائبرز اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران طویل ویڈیوز کے 4 ہزار گھنٹے واچ ٹائم کی شرط تھی، نئی شرائط کے تحت یہ واچ ٹائم بڑھا کر 8 ہزار گھنٹے کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ شارٹس کے ذریعے پارٹنر پروگرام میں شمولیت کے لیے گزشتہ 90 دن کے دوران 2 کروڑ ویوز حاصل کرنا ضروری ہوگا، جبکہ اس سے قبل شارٹس کے لیے ایک کروڑ ویوز کی شرط تھی۔

یہ نئی شرائط یکم فروری 2027 سے نافذ ہوں گی۔ گوگل کے مطابق نئی پالیسی سے وہ صارفین متاثر نہیں ہوں گے جو پہلے ہی یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا حصہ ہیں۔