تازہ ترین
  • بریکنگ :- مظفرگڑھ:پیرجہانیاں میں گھرمیں آگ لگ گئی،ریسکیوذرائع
  • بریکنگ :- مظفرگڑھ:ایک ہی خاندان کے7افرادجھلس کرجاں بحق،ریسکیوذرائع
  • بریکنگ :- مظفرگڑھ:جاں بحق افرادمیں 4بچے اور2خواتین شامل

افغانستان میں نئی حکومت کا 3 روز میں اعلان کر دیا جائے گا، طالبان

Published On 01 September,2021 01:12 pm

کابل: (دنیا نیوز) افغانستان میں حکومت سازی کیلئے مشاورتی عمل مکمل کر لیا گیا، طالبان رہنماوں کا کہنا ہے تین روز میں حکومت کا اعلان کر دیا جائے گا۔ نئی حکومت میں خواتین بھی شامل ہوں گی، پنج شیر میں مزاحمتی اتحاد نے وادی کے داخلی راستے پر طالبان کا حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ طالبان نے کہا ہے وادی پر سرے سے حملہ ہی نہیں کیا گیا۔

اٖفغانستان میں نئی حکومت کب بنے گی سب کو انتظار ہے۔ دوحہ سیاسی دفتر کے نائب رکن شیر محمد عباس ستانکزئی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت کا اعلان تین دن میں کر دیا جائے گا۔ نئی حکومت میں گزشتہ 20 برس کی حکومت میں رہنے والے افراد شامل نہیں ہوں گے، نئی حکومت میں متقی ، پرہیزگار اور تعلیم یافتہ افراد شامل ہوں گے،

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں خواتین کی کافی تعداد ہوگی، یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ بڑے منصبوں پر فائز ہوں گی یا نہیں۔ شیر محمد عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ کابل ائیرپورٹ کو دو دن میں بحال کر دیا جائے گا۔ ائیر پورٹ کی بحالی پر 25 سے 30 ملین ڈالر خرچہ ہوگا، بحالی کی رقم قطر اور ترکی کی جانب سے مدد کے طور پر دی جائے گی۔

طالبان رہنما نے مزید کہا کہ قانونی دستاویزات کے حامل افراد ملک سے باہر جا سکیں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا بغیر دستاویزات والے 25 سو افغانوں کو واپس بھیج رہا ہے۔

طالبان رہنما انس حقانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی افغان حکومت کی تشکیل آخری مراحل میں ہے، قندھار میں طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے اجلاس کی صدارت کی جس میں ملک کی موجودہ صورتحال، سکیورٹی اور سماجی مسائل پر بات چیت کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی حکومت کے خدوخال جلد سامنے آجائیں گے۔

ادھر پنج شیر میں مزاحمتی اتحاد نے وادی کے داخلی راستے پر طالبان کا حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مزاحمتی فرنٹ کے ترجمان فہیم دشتی نے کہا کہ حملے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، متعدد مزاحمتی جنگجو بھی زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب طالبان ترجمان کے معاون نے کہا ہے کہ وادی پر سرے سے حملہ ہی نہیں کیا گیا۔ ان کی افواج نے پنج شیر کا محاصرہ کر رکھا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گا۔