خلاصہ
- جدہ: (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیں۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کی مزید 19 ہزار 975 کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ 14 ہزار867 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق 22 سے 28 جنوری 2026 کے درمیان 12 ہزار906 اقامہ قانون، 3 ہزار918 بارڈر سکیورٹی اور 3 ہزار 151 قانون محنت کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
سعودی عرب میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار419 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 60 فیصد ایتھوپین، 39 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
48 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے سعودی عرب سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے، سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 11 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لئے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔