خلاصہ
- واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایک اہم سفارتی مشن پر سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں جہاں لبنان میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان عبوری امن معاہدے کو ایک مستقل علاقائی امن ڈیل میں بدلنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق سٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ہمراہ اس اعلیٰ سطحی بیٹھک کا حصہ بنیں گے جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بھی سنیچر کو وہاں پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب محض ایک دن قبل لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شدید لڑائی کے باعث امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کا اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا جس سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تیل کی سپلائی کو بحال کرنے کی نازک کوششوں پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے نے صورتحال بدل دی ہے، اس معاہدے کے تحت فریقین کو ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر پچیدہ علاقائی تنازعات کو حل کرنے کے لیے 60 دن کا وقت ملا ہے۔
ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیل اور حزب اللہ میں بھی جنگ بندی ہو گئی ہے، امریکا اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کے تعاون سے یہ معاہدہ ممکن بنایا، حزب اللہ اور اسرائیلی حکام نے بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔
ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا کہ اگر حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی، تو ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں تاہم اسرائیلی فوج سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جنوبی لبنان میں موجود رہے گی۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی فضائی حملوں میں 47 لبنانی شہری ہلاک ہوئے جبکہ اسرائیل نے بھی اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔