خطے میں جنگ بندی چاہتے، حتمی معاہدے کی مضبوط بنیاد رکھ دی: جے ڈی وینس

خطے میں جنگ بندی چاہتے، حتمی معاہدے کی مضبوط بنیاد رکھ دی: جے ڈی وینس

 

سوئٹزرلینڈ میں میڈیا بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس کے نتیجے میں متعدد اہم امور پر پیشرفت سامنے آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران جوہری معاملات پر پیشرفت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو دوبارہ مدعو کرنے پر بھی رضامند ہو گیا ہے۔

امریکی نائب صدر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات شروع ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں مختلف امور پر کام کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت پر خوش ہونا چاہئے اور فریقین ایک کامیاب حتمی معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مستقل امن کے قیام کی ہدایت دی ہے اور امریکا پورے خطے میں جنگ بندی کا خواہاں ہے، ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایسے واقعے سے بچنا ضروری ہے جو پورے خطے کو نئی کشیدگی کی لپیٹ میں لے لے۔

انہوں نے بتایا کہ لبنان میں جاری صورتحال اور اسرائیلی حملوں سے متعلق بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، امریکا لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف طریقہ کار پر بات چیت کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ایران حزب اللہ پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکے۔

جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ اسرائیل کی سکیورٹی ناگزیر ہے، تاہم لبنان کی خودمختاری کا تحفظ بھی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

ایرانی منجمد اثاثوں کے حوالے سے امریکی نائب صدر نے کہا کہ اگر یہ اثاثے بحال کیے جاتے ہیں تو ایران کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ رقم عوامی فلاح و ترقی پر خرچ ہو، انہوں نے زور دیا کہ منجمد اثاثے دہشت گردی یا پراکسی گروہوں کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہییں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی منجمد اثاثوں سے متعلق میڈیا میں بعض غلط رپورٹنگ ہوئی ہے، اگر یہ اثاثے جاری کیے گئے تو اس سے امریکی کسانوں کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ ایران امریکی سویا بین اور دیگر زرعی اجناس خرید سکے گا۔

جے ڈی وینس نے انکشاف کیا کہ ایرانی وفد نے ایک مرحلے پر مذاکرات سے واک آؤٹ کی دھمکی دی تھی، تاہم وہ مذاکراتی عمل میں شامل رہا، انہوں نے بتایا کہ ایرانی تکنیکی ٹیم اب بھی مذاکرات میں مصروف ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

امریکی نائب صدر کے مطابق گزشتہ روز سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی رابطے کیے گئے، خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔