کروڑوں ٹن ملبہ فلسطینیوں کیلئے گھروں کی دوبارہ تعمیر میں بڑی رکاوٹ بن گیا

کروڑوں ٹن ملبہ فلسطینیوں کیلئے گھروں کی دوبارہ تعمیر میں بڑی رکاوٹ بن گیا

میئر غزہ رشدی السراج نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ شہر اور دیگر علاقوں میں تباہی کے آثار ہر طرف موجود ہیں، جس سے بحالی کا عمل شدید متاثر ہو رہا ہے۔

رشدی السراج نے بتایا کہ بلدیہ کی اولین ترجیح ابتدا سے ہی سڑکوں پر موجود ملبہ ہٹانا رہی ہے تاکہ ہنگامی امدادی گاڑیاں، بلدیہ کا عملہ اور عام شہری آسانی سے آمدورفت کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں تقریباً 6 کروڑ 80 لاکھ ٹن ملبہ جمع ہو چکا ہے جبکہ اب سب سے بڑا چیلنج سرکاری، نجی اور تجارتی عمارتوں کے ملبے کو ہٹانا ہے۔

میئر غزہ نے اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی و غیر سرکاری تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ملبہ ہٹانے کی کارروائیوں میں مزید تیزی لائیں تاکہ متاثرہ شہری جلد از جلد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور معمول کی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے عوام کی سب سے بڑی خواہش اپنے گھروں میں واپسی اور اپنی زندگیوں کی بحالی ہے۔