نیتن یاہو کا حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

نیتن یاہو کا حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کا اب تک کا سب سے بڑا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے وجود اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اس وقت تک غزہ میں اپنی موجودہ فوجی پوزیشنوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک حماس مکمل طور پر اپنے ہتھیار نہیں ڈال دیتی۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر اور ان کی ٹیم کا خیال ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح اور غزہ کو فوجی سرگرمیوں سے پاک کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول، انہیں ایک مجوزہ مسودہ بھیجا گیا تھا، لیکن اسرائیل نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ وہ اس کا اپنا مسودہ نہیں تھا، جس کے بعد اسرائیل نے اپنی تجاویز واپس بھیج دی ہیں۔

مجوزہ امن منصوبے کے مطابق اسرائیل کو غزہ میں اکتوبر 2025 کی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت مقرر کی گئی اصل یلو لائن تک واپس جانا ہوگا، جبکہ بعد ازاں اسرائیل نے اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کو بڑھا کر تقریباً 60 فیصد تک کر لیا تھا۔

منصوبے میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ حماس کی جانب سے ہتھیار حوالے کرنے کا عمل شروع ہوتے ہی اسرائیل فوری طور پر فوجی کارروائیاں روک دے اور مرحلہ وار اپنی افواج کا انخلا کرے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ تجویز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حصہ ہے، جسے اسرائیل گزشتہ برس اصولی طور پر قبول کر چکا تھا۔ امریکی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے اس نئی تجویز کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تو صدر ٹرمپ شدید مایوسی کا اظہار کریں گے۔

ادھر امن منصوبے کے نمائندوں نے پیر کے روز یروشلم میں نیتن یاہو سے ملاقات کر کے انہیں اس منصوبے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ملاقات کے بعد بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اسرائیلی فوج کو ملکی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کے لیے ضروری ہر اقدام کی ہدایت دی گئی ہے اور فوج اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔