خلاصہ
- بیجنگ: (ویب ڈیسک) چینی حکام نے مشرقی چین میں سمندری طوفان ڈولفن کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد 10 لاکھ سے زائد افراد کو ان کے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان چینی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے صوبہ ژے جیانگ کے شہر یوہوان سے ٹکرایا، اس وقت اس کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک تھی، تقریباً ایک گھنٹے بعد طوفان نے شہر وینژو کے قریب دوسری بار ساحل سے ٹکرایا۔
جاپان کے بعد سمندری طوفان کے باعث پورے مشرقی چین میں آمدورفت کا نظام شدید متاثر ہوا اور صرف شنگھائی میں 1400 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
چینی حکام نے اس سے قبل طوفان ’ڈولفن‘ کے لیے اعلیٰ ترین سطح کا ریڈ الرٹ جاری کیا تھا، تاہم پیر کی صبح اسے کم کر دیا گیا۔

طوفان اب چین کے وسطی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم حکام نے بدھ تک موسلا دھار بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے خبردار کیا ہے، شان ڈونگ، ہینان، ہوبے، آنہوئی، جیانگ سو اور ژے جیانگ کے صوبوں سمیت شنگھائی میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
مقامی حکومتوں نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، متعدد اہم سیاحتی مقامات بھی بند کر دیے گئے ہیں، جن میں ڈزنی لینڈ اور لیگولینڈ کے بعض حصے اور شنگھائی کے مشہور علاقے دی بنڈ کے ساتھ واقع کئی مشاہداتی پلیٹ فارم شامل ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ژے جیانگ کے بعض علاقوں میں آئندہ چند روز کے دوران 250 سے 500 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے، ژے جیانگ کے دارالحکومت ہانگژو میں حکام نے شدید ہواؤں اور سیلابی پانی سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کا رخ کرنے والے ڈرائیوروں کے لیے تمام سرکاری پارکنگ مقامات پر فیس معاف کر دی ہے۔

صوبے کے دیگر علاقوں میں وینژو کے حکام نے تقریباً نو لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے اور ایک ہزار سے زائد ہنگامی پناہ گاہیں قائم کی ہیں، جبکہ شہر تائی ژو میں تقریباً تین لاکھ 90 ہزار افراد کو ان کے گھروں سے منتقل کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے ڈولفن طوفان نے جاپان کے جزیرے اوکیناوا پر تباہی مچائی ہے۔