غزہ میں 94 فیصد آبادی کے پاس رہنے کیلئے چھت نہیں ہے: اقوام متحدہ

غزہ میں 94 فیصد آبادی کے پاس رہنے کیلئے چھت نہیں ہے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غزه میں ہر پانچ میں سے چار گھر ایسے حالات میں رہ رہے ہیں جن کے پاس رہنے کیلئے چھت نہیں ہے، کئی پناہ گاہوں میں ایندھن، توانائی اور ضروری گھریلو اشیاء کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی امدادوں میں رکاوٹیں لوگوں کی سونے، کھانا پکانے، نہانے، کھانے اور پانی کو ذخیرہ کرنے، مناسب روشنی کو برقرار رکھنے اور گرمی اور سردی سے نمٹنے کی صلاحیت کو متاثر کررہی ہیں۔

ڈوجارک نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کو اسرائیلی فضائی حملوں، شیلنگ اور فائرنگ میں فلسطینی شہریوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 19 بچوں سمیت 50 افراد کی لاشیں 21 اگست کو ملبے سے نکالے جانے کے بعد دفن کی گئیں انہیں دو سال سے زیادہ عرصہ قبل قتل کیا گیا۔

ڈوجارک نے مزید کہا کہ ملبہ صاف کرنے اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں بھاری مشینری، سپیئر پارٹس، چکنا کرنے والے مادوں اور دیگر اہم سامان کے داخلے پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ غزہ کے بڑے علاقوں تک رسائی پر پابندیوں کی وجہ سے محدود ہیں۔