فلسطینی صدر کا جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب، غزہ میں قتل عام روکنے کا مطالبہ

فلسطینی صدر کا جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب، غزہ میں قتل عام روکنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی ویزا پابندیوں کے باعث محمود عباس کو ویڈیو کے ذریعے خطاب کی اجازت دی تھی۔

محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی وفد کو روکنا میزبان ملک کی حیثیت سے امریکا کی ذمہ داریوں سے متصادم ہے، امریکا فلسطینی وفد پر عائد پابندیاں ختم کرے۔

فلسطینی صدر نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی عوام کا قتل عام کیا گیا، جبکہ علاقے کو اس وقت تباہی اور بھوک کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں فلسطینیوں کو جبری بے دخلی کا بھی سامنا ہے۔

انہوں نے غزہ کی صورتحال کو نسل کشی کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا خیرمقدم کیا تھا، تاہم اس حوالے سے اب تک پیشرفت نہیں ہوئی۔

محمود عباس نے کہا کہ دو ریاستی حل سب کے لیے امن یقینی بناتا ہے، جبکہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کی روک تھام بھی یقینی بنائی جائے۔

فلسطینی صدر نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کے خلاف قتل عام روکا جائے اور ایک اور نکبہ سے بچایا جائے۔