ٹرمپ جوہری پروگرام پر ٹھوس اقدامات کے بدلے ایران کو اقتصادی ریلیف دینے کیلئے تیار

ٹرمپ جوہری پروگرام پر ٹھوس اقدامات کے بدلے ایران کو اقتصادی ریلیف دینے کیلئے تیار

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کو یہ امریکی پیغام ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب قطری اور پاکستانی ثالث رواں ہفتے دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ کروانے کیلئے ایک بار پھر کوششیں کر رہے ہیں، اس وقت فریقین کے درمیان اہم مسائل پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات کا محور آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی ہو جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا پر زور مطالبہ ہے کہ ایران جوہری مراعات دینے پر رضامند ہو۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی عہدیدار نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ناکہ بندی اور پابندیوں نے ایران کی پوزیشن کو مسلسل کمزور کیا ہے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا کی پوزیشن ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہی ہے اور صدر ٹرمپ تحمل کے ساتھ مکمل طور پر اپنے اس ہدف پر قائم ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، وائٹ ہاؤس کو ایران کے وعدوں پر شدید شکوک و شبہات ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانیوں نے جولائی میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر فائرنگ کر کے گزشتہ مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی تھی، امریکا کو ٹھوس یقین دہانی چاہیے کہ ایران واقعی سنجیدہ ہے اور وہ محض اس مشکل صورتحال سے نکلنے کی کوشش نہیں کر رہا جس میں وہ اس وقت گھرا ہوا ہے۔