امریکا نے ایران سے تیل اور پیٹروکیمیکل تجارت پر نئی پابندیاں عائد کردیں

امریکا نے ایران سے تیل اور پیٹروکیمیکل تجارت پر نئی پابندیاں عائد کردیں

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ کارروائی ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں اور افراد نے ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی خرید و فروخت، درآمد یا نقل و حمل میں کردار ادا کیا۔

پابندیوں میں شامل پانچ بھارتی شہریوں میں دھوانی نثارگ وورا اور نثارگ سمیر وورا شامل ہیں، جو بھارتی کمپنی ایس ایس پی ایل سلوشنز کے ڈائریکٹر ہیں۔ اس کے علاوہ کیتن منوہر کوچیکار، بھپیندر سنگھ دھال سنگھ ساہو اور ہریش یام ہری ہارن چنداکاٹل بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو سمودرا میرین سروسز کے ڈائریکٹر ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان کمپنیوں نے ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت یا درآمد میں کردار ادا کیا۔

ترکیہ کے شہری سعید احمد نورزاد پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جو ترکیہ کی کمپنی نورزاد پیٹروکیمیا کے ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق مذکورہ کمپنی نے تقریباً 38 لاکھ ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات خریدیں۔

اسی طرح متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی عربین پرو میٹیریلز پر تقریباً 20 لاکھ ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

امارات میں قائم ہورائزن شپ مینجمنٹ اور ہیسونائٹ شپ مینجمنٹ کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان کمپنیوں سے منسلک بحری جہاز ایرانی تیل اور گیس کی مصنوعات کی نقل و حمل میں ملوث رہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت میں معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا اور اس شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی محدود کرنا ہے۔