خلاصہ
- نیویارک: (دنیا نیوز) اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی اسرائیلی جنگی جرائم سے متعلق نئی رپورٹ جاری ہو گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں مسلسل نسل کشی کا مرتکب ہورہا ہے۔
یو این رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے، اسرائیلی فوج جان بوجھ کر فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال انتہائی سنگین ہوئی، 2008 سے اکتوبر 2023 تک مقبوضہ مغربی کنارے میں فضائی حملوں سے صرف 6 فلسطینی شہید ہوئے، اکتوبر 2023 سے ستمبر 2026تک اسرائیلی فضائی حملوں میں 254فلسطینی شہید ہوئے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی فوج فسلطینیوں کو قومیت، نسل، جنس اور عمر کی بنیاد پر نشانہ بنارہی ہے، اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکار فلسطینیوں کے خلاف حملے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے حملے: 38 ہزار فلسطینی خواتین، بچیاں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں
یو این رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کیلئے جنسی تشدد کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر قتل کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل فسلطینیوں کو بے گھر کرکے ان کی زمینوں پر قبضہ جمانا چاہتا ہے، اگست 2026 تک 34 ہزار 176 فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل تھے۔