خلاصہ
- تہران: (دنیا نیوز) امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایران کا خفیہ فوجی نیٹ ورک سرگرم ہے، اربوں ڈالر کا سازوسامان درآمد کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایران نے 5 ہزار سے زائد خفیہ فوجی اداروں پر مشتمل وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے جس کے ذریعے جنوری 2025 سے جون 2026 تک کم از کم 2 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان، دھماکا خیز مواد، میزائل و ڈرون کے پرزے اور بھاری ٹرک درآمد کئے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باوجود زمینی، سمندری اور فضائی راستوں سے ایران کو اہم فوجی سامان پہنچاتا رہا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزارت دفاع سے منسلک یہ ادارے بظاہر الگ الگ ناموں سے کام کرتے ہیں، تاہم ان کے پتے تہران میں وزارتِ دفاع کے مرکزی پتے سے منسلک ہیں، ان میں سے متعدد اداروں کے روابط پاسداران انقلاب اور ایران کے میزائل و ڈرون پروگرام سے بھی سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 97 فیصد زیر جائزہ درآمدی لین دین میں رقم سرحد پار منتقل کرنے کے بجائے بیرون ملک موجود قابل اعتماد درمیانی افراد کے ذریعے ادائیگیاں کی گئیں۔
اس طریقہ کار سے ایرانی فوجی ادارے بین الاقوامی مالیاتی نگرانی اور پابندیوں سے بچنے میں کامیاب رہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نیٹ ورک ایران کو اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذخائر دوبارہ بھرنے اور فوجی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے میں مدد دے رہا ہے۔