خلاصہ
- تہران: (دنیا نیوز) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا گزشتہ سات دہائیوں سے ایران کے خلاف تسلط اور دشمنی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم ایرانی عوام نے امریکی دباؤ کے باوجود اپنی آزادی اور خودمختاری کا کامیابی سے دفاع کیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ 1953 میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا امریکی مداخلت کی بڑی مثال ہے۔ امریکا نے ایران کے وسائل، خصوصاً تیل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ شاہ ایران کی حمایت، عراق کی مدد اور اقتصادی پابندیاں بھی امریکی دشمنی کا حصہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف سیاسی مداخلت، قتل اور براہ راست فوجی حملوں کا راستہ اختیار کیا، لیکن ایران کو کمزور اور تابع بنانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ پیش رفت نے امریکی فوجی طاقت کی حدود واضح کر دی ہیں اور ثابت کیا ہے کہ امریکا ناقابل شکست نہیں۔ علاقائی ممالک اپنی سلامتی کے لیے ہمیشہ بیرونی طاقتوں پر انحصار نہیں کر سکتے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے فلسطین، لبنان، عراق اور یمن کی مزاحمتی تحریکوں کے تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحریکیں مغربی تسلط کے خلاف جدوجہد کا حصہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو امریکی دشمنی کے خاتمے کی امید مذاکرات سے نہیں رکھنی چاہیے، کیونکہ امریکی حکومت یا حکمران جماعت کی تبدیلی سے ایران کے خلاف پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ امریکا کو رعایتیں دینے سے اس کے دباؤ اور مطالبات میں مزید اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد، معاشی ترقی، فوجی طاقت، سائنسی ترقی اور سیاسی خودمختاری ایران کی سلامتی اور مستقبل کی بنیاد ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مایوسی ترک کریں، علم اور عملی مہارتوں کو فروغ دیں اور اپنی اخلاقی تربیت و صلاحیتوں کے ذریعے ملک کی ترقی اور مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں۔