لاہور:(دنیا نیوز) تاریخ میں پہلی بار پنجاب حکومت نے پی سی ون کی تیاری اور جانچ کیلئے نیا فریم ورک تیار کرلیا۔
پنجاب حکومت کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہونے کیلئے پی سی ون کی منظوری لازمی قرار دیدی گئی، پی سی ون منظوری کے بعد سالانہ ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہوگا۔
اس سے قبل بغیر تیاری اور بغیر پی سی ون منظوری یا تخمینہ لاگت دیکھے بغیر سکیم اور فنڈز بجٹ میں رکھے جاتے رہے، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگ زیب نے نئے فریم ورک کی منظوری دی۔
چئیرمین پی اینڈ ڈی ڈاکٹر نعیم رؤف اور سیکرٹری رفاقت نسوانہ نے ڈرافٹ تیار کیا ، پی سی ون کی تیاری اور اپریزل ریڈینس کو معیاری اور مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
پی سی ون میں کم از کم شواہد اور تیاری کے تقاضے واضح کرنے کی تجویز پیش کی گئی، اپریزل فریم ورک میں سٹیج گیٹ ریڈینس چیکس شامل ہے، گیٹ زیرو سے گیٹ تھری تک منصوبوں کی جانچ کا واضح طریقہ کار ہے۔
پنجاب حکومت کے اِس اقدام سے منصوبوں میں لاگت اور وقت کے غیر ضروری اضافے روکنے کی کوشش کی گئی،اپریزل فریم ورک سے ریویژن اور عملدرآمد شاکس کم کرنے کا ہدف دیا گیا۔
پی سی ون میں ڈیزائن میچورٹی اور سکوپ لاک کو لازمی قرار دینے کی تجویز شامل ہے، لاگت، شیڈول اور پروکیورمنٹ پلاننگ کیلئے کم از کم معیار مقرر اور آپریشن اینڈ مینٹی ننس اخراجات کو پی سی ون میں واضح کرنے پر زوردیا گیا۔
دوسری جانب نتائج کی تصدیق اور مانیٹرنگ کے نظام کو مضبوط بنانے کی تجویز شامل ہے مختلف سیکٹرز کیلئے مخصوص نکات شامل کرنے پر غور کیا گیا۔
علاوہ ازیں زبان اور فارمیٹ کو مزید واضح اور قابلِ استعمال بنانے کی تجویز شامل کی گئی اور پی سی ون کے معیار اور یکسانیت کو بہتر بنانے کیلئے بڑا ادارہ جاتی اقدام کے ساتھ اپریزل فریم ورک کو سپانسرنگ ڈیپارٹمنٹس کیلئے ریفرنس بنانے کا بھی فیصلہ ہوا۔



