خلاصہ
- اسلام آباد:(دنیا نیوز) امریکی نائب معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور جان مارک کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات ہوئی۔
وزارتِ خزانہ کے اعلامیہ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے نائب معاون کی قیادت میں وفد نے وزیرخزانہ سے ملاقات کی، ملاقات میں امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر بھی وفد میں شامل تھیں، دوران گفتگو امریکہ کے ساتھ طویل المدتی معاشی تعاون کو سراہا گیا۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ دورانِ ملاقات پاکستان کی معاشی صورتِ حال، اصلاحاتی ایجنڈا اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال ہوا، وزیر خزانہ کی جانب سے وفد کو میکرو اکنامک استحکام اور اصلاحات پر بریفنگ دی گئی اور مالی خسارے میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری سے آگاہ کیا گیا۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے سے بیرونی کھاتے کو سہارا ملا، وزیر خزانہ نے کریڈٹ ریٹنگ میں مثبت پیش رفت کا بھی ذکر کیا، حکومت مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی استحکام برقرار رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات اور رائٹ سائزنگ کا عمل تیز کیا جارہا ہے، نجی شعبے کی بڑھتی شمولیت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب اعلامیہ میں بتایا گیا کہ امریکہ نے پاکستان کی مالیاتی استحکام کی کوششوں کو سراہا اور سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیح قرار دیا گیا۔
جان مارک کا اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ امریکی کاروباری برادری اصلاحاتی عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، پالیسی میں تسلسل سے تجارتی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔
امریکی حکام نے بریفنگ کے دوران پاکستان کا غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور امریکی چیمبر آف کامرس اور امریکن بزنس کونسل سے روابط جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کی عالمی سرمایہ منڈیوں میں واپسی کی تیاریوں پر بریفنگ دی اور پانڈا بانڈ کے اجرا سمیت مالی وسائل کے تنوع کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔
محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھاکہ بینکاری اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے آئندہ مراحل پر پیش رفت ہوئی، وزیر خزانہ نے اسلام آباد ایئرپورٹ سے آؤٹ سورسنگ کے عمل کے آغاز کا عندیہ بھی دیا جب کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔