زراعت اور غذائی تحفظ ملکی معیشت کے اہم ستون ہیں: شہباز شریف

زراعت اور غذائی تحفظ ملکی معیشت کے اہم ستون ہیں: شہباز شریف

وزیراعظم محمد شہباز شریف کے زیر صدارت وزرات قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے امور پر اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے ایگری کلچر روڈ میپ کے حوالے سے صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں سے مشاورت کا عمل مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔

شہباز شریف نے چین سے زرعی تحقیق کے حوالے سے تربیت حاصل کرنے والے سکالرز سے پاکستانی زرعی شعبے میں ریفارمز کے حوالےسے مشاورت اور ان سے رابطہ رکھنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو پرائم منسٹر اسٹریٹیجک روڈ میپ برائے زراعت اور غذائی تحفظ پر بریفنگ دی گئی، شرکا کو بتایا گیا کہ تمام وفاقی اکائیوں میں نیشنل فوڈ اینڈ ایگریکلچر سکیورٹی کونسل تشکیل دی جا رہی ہے۔

اجلاس کو بریف کیا گیا کہ پرائم منسٹر سٹریٹجک روڈ میپ کے 5 ستون ہیں، اس روڈ میپ کا مقصد مستحکم اور مسابقتی زرعی اور غذائی نظام کا حصول ہے۔

شرکا کو بتایا گیا کہ اس روڈ میپ کے تحت غذائی تحفظ کے اقدامات اٹھائے جائیں گے، نجی شعبے کو زرعی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے فعال کیا جائے گا، واٹر گورننس اور موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کو ترجیحا عام کیا جائے گا اور اس حوالے سے تحقیق کو مربوط کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کے عوام کی غذائیت کو بہتر بنانے کے اقدامات اٹھائے جائیں گے، روڈ میپ کے تحت ڈیش بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہے جو اجناس کی سٹوریج اور تحفظ اور میکانائزیشن کو بہتر بنانے اور نگرانی کا کام کرے گا۔

شرکا کو بتایا گیا کہ زرعی نظام کی ریگولیشن کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے، کاشتکاروں کو سرمائے تک رسائی دینے کے حوالے سے فارم اور نان -فارم کریڈٹ کا نظام لایا جا رہا ہے، فصلوں کی غذائی استعداد بڑھانے اور بائیو فورٹیفائیڈ فوڈ کے حوالے سے کام کیا جائے گا۔

ملک کے 10 پسماندہ ضلعوں میں زراعت کے فروغ کے لئے ٹارگٹڈ پیکیج دیئے جائیں گے، ایگری گریجویٹس یوٹیلائیزشن سکیم کا اجراء کیا جائے گا جس کے تحت زرعی تحقیق کو فروغ ملے گا۔