خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ کے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کو پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں وزارت پٹرولیم نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرے کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، جو بھی پٹرول پمپ مصنوعی قلت کے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہو، اس کو فورا بند کیا جائے اور اس کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کاروائی کی جائے۔
وزیراعظم نے وزیر پٹرولیم کو ہدایت دی کہ وہ صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پٹرولیم مصنوعات کی بچت اور ان کی عوام کو بلاتعطل فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل و منصوبہ بندی تیار کریں۔
انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، جس کے ذریعے صوبوں کے ساتھ رئیل ٹائم ڈیٹا شیئر ہو اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز شریک ہوئے۔
علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت خطے کی بدلتی صورتحال کے باعث پٹرولیم مصنوعات سٹاک اور کھپت پر ہائی پاورڈ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خزانہ کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق تعلیمی اداروں میں ورچوئل نظام تعلیم اور دفاتر کیلئے ورک فرام ہوم کا پلان پیر کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، وزیر خزانہ کو صوبوں سے مشاورت کے بعد ورک فرام ہوم بارے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق ہائی پاورڈ کمیٹی نے ہفتہ وار قیمتوں کے تعین بارے سفارشات پیش کردیں جو وزیراعظم نے منظور کرلیں، ای سی سی پٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں بارے سفارشات دے گی، ای سی سی سے منظوری کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی سمری کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔