جنگ کا نیا چہرہ: مصنوعی ذہانت اور جنوبی ایشیا کی ٹیکنالوجی ریس

جنگ کا نیا چہرہ: مصنوعی ذہانت اور جنوبی ایشیا کی ٹیکنالوجی ریس

اب جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ نیٹ ورک، ڈرونز، ڈیٹا انٹیلی جنس اور الیکٹرانک سسٹمز کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے دفاعی نظام کو تیزی سے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ رہی ہیں۔

امریکا، چین اور اسرائیل اس نئی جنگی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکے ہیں، بھارت بھی گزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل جنگی نظاموں پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے، جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب صرف روایتی فوجی قوت سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل صلاحیتوں سے بھی جڑا ہوا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جسے پاکستان کے پالیسی سازوں، جامعات اور نجی شعبے کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

بھارت نے گزشتہ دہائی میں دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑی پیشرفت کی ہے، اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے ذریعے بھارت نے جدید ریڈار سسٹمز، نگرانی کے ڈرونز، میزائل ڈیفنس ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک وارفیئر کے شعبوں میں صلاحیت حاصل کی ہے، اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دشمن کے حملے کو سب سے پہلے شناخت کیا جائے، اس کا فوری تجزیہ کیا جائے اور چند لمحوں میں مؤثر ردعمل دیا جائے، اسی ماڈل کو بھارت اپنی فوجی حکمت عملی میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان کو اکثر صرف روایتی فوجی طاقت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے، پاکستان کے پاس کئی ایسے دفاعی ستون موجود ہیں جو اسے خطے میں ایک مضبوط طاقت بناتے ہیں، پاکستان کا میزائل پروگرام، جوہری ڈیٹرنس، پیشہ ور مسلح افواج اور مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک ملک کے دفاعی ڈھانچے کی بنیاد ہیں، پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبے، خصوصاً جے ایف 17 تھنڈر جیسے پروگرام، اس بات کی مثال ہیں کہ پاکستان دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پاس ایک اور بڑی طاقت موجود ہے جس پر ابھی تک پوری طرح توجہ نہیں دی گئی، یہ طاقت پاکستان کے نوجوان انجینئرز، سائنسدان اور آئی ٹی ماہرین ہیں، پاکستان میں ہر سال ہزاروں طلبہ انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اگر ان صلاحیتوں کو ایک منظم قومی پروگرام کے ذریعے دفاعی تحقیق کے ساتھ جوڑا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔

دنیا کی مثالیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ جدید دفاعی نظام صرف ہتھیاروں سے نہیں بنتے بلکہ سینسرز، ڈیٹا اور تیز فیصلہ سازی کے نظاموں سے بنتے ہیں، متحدہ عرب امارات کی مثال ہمارے سامنے ہے، یو اے ای نے گزشتہ چند برسوں میں اپنے دفاعی نظام کو جدید ریڈار نیٹ ورک، ڈرون نگرانی اور مربوط ڈیجیٹل کمانڈ سسٹمز کے ذریعے مضبوط بنایا ہے، اس نظام کا مقصد صرف حملہ کرنا نہیں بلکہ کسی بھی خطرے کو فوری طور پر شناخت کرنا اور اس کا بروقت جواب دینا ہے، یہی جدید دفاعی سوچ ہے جس کی طرف دنیا بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کیلئے سب سے اہم قدم یہ ہو سکتا ہے کہ یونیورسٹیوں، دفاعی اداروں اور نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایک مشترکہ تحقیقاتی نظام میں شامل کیا جائے، NUST، FAST، GIKI، COMSATS اور UET جیسے ادارے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اہم تحقیق کر سکتے ہیں، دنیا کے کئی ممالک میں دفاعی تحقیق کا بڑا حصہ یونیورسٹیوں اور نجی صنعت کے اشتراک سے ہی سامنے آیا ہے۔

اسی طرح پاکستان میں پرائیویٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو بھی اس میدان میں شامل کرنا ضروری ہے، دنیا کی بڑی دفاعی ایجادات اکثر چھوٹی ٹیک کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس سے سامنے آئی ہیں، اگر پاکستان میں بھی دفاعی ٹیکنالوجی کیلئے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں نوجوان انجینئرز اور پروگرامرز نئے آئیڈیاز پر کام کر سکیں تو ملک کی دفاعی صنعت کو نئی سمت مل سکتی ہے۔

سائبر سکیورٹی بھی مستقبل کی جنگ کا ایک اہم میدان ہے، جدید جنگ میں دشمن کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کیلئے سائبر حملے کئے جاتے ہیں، بجلی کے نظام، بینکنگ نیٹ ورک، کمیونیکیشن سسٹم اور ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کسی بھی ملک کیلئے انتہائی حساس ہوتے ہیں، اس لیے پاکستان کو ایک مضبوط سائبر دفاعی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اہم قومی نظام محفوظ رہ سکیں۔

اسی طرح ڈرون ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگ میں اہم کردار ادا کرے گی، نگرانی، سرحدی سکیورٹی، ہنگامی صورتحال اور معلومات کے تجزیے کیلئے ڈرونز انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، پاکستان کو اس شعبے میں مقامی تحقیق اور پیداوار کو فروغ دینا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی بھی دفاعی انٹیلی جنس کیلئے انتہائی اہم ہے، سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے سرحدی نگرانی، موسمی تجزیہ اور ہنگامی صورتحال میں بروقت معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ آنے والی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا، خلا اور مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں بھی لڑی جائیں گی، جو قومیں علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں گی وہی مستقبل میں طاقتور ہوں گی۔

پاکستان کے پاس صلاحیت بھی ہے، افرادی قوت بھی اور تجربہ بھی، اگر ملک اپنی جامعات، صنعت اور دفاعی اداروں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت جوڑ دے تو نہ صرف دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے بلکہ پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ایک اہم مقام حاصل کر سکتا ہے، مستقبل کی جنگ صرف طاقت سے نہیں بلکہ ذہانت، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی سے جیتی جائے گی اور یہی وہ راستہ ہے جس پر پاکستان کو آگے بڑھنا ہوگا۔