خلاصہ
- پشاور:(دنیا نیوز) خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ نیشنل اکنامک کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں وفاق کو 1100 ارب روپے دینے کے معاملے پر خیبرپختونخوا نے غیر مشروط اتفاق نہیں کیا تھا بلکہ اس اتفاق کو بانی چیئرمین سے ملاقات سے مشروط کیا گیا تھا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں وزیراعظم نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے یقین دہانی کرائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے آئینی اور مالی حقوق کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کونسل آف کامن انٹرسٹ (سی سی آئی) کا اجلاس ہر تین ماہ بعد ہونا آئینی تقاضا ہے، تاہم اس فورم کے اجلاس باقاعدگی سے نہیں ہو رہے جب کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو سی سی آئی کے اجلاس کی اشد ضرورت ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ قومی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ کونسل آف کامن انٹرسٹ کا اجلاس بروقت طلب کیا جائے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اہم مالی و انتظامی معاملات آئینی طریقے سے حل کیے جا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سی سی آئی کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے تو یہ ملک کے لیے ایک نیک شگون ثابت ہوگا۔
خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ نے مزید یہ بھی بتایا کہ حالیہ سی سی آئی اجلاس اسحاق ڈار کی سربراہی میں منعقد ہوا تھا، تاہم آئندہ اجلاسوں کا باقاعدگی سے انعقاد وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔