بلوچستان میں دہشت گردی: ایل پی جی کی قلت اور قیمت میں اضافے کا خدشہ

بلوچستان میں دہشت گردی: ایل پی جی کی قلت اور قیمت میں اضافے کا خدشہ

اوگرا سے حاصل دستاویزات کے مطابق بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملے بالخصوص ایل پی جی ٹینکروں کو نذر آتش کرنے کے واقعات نے غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ایل پی جی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور قیمت بھی بڑھ سکتی ہے۔

اوگرا دستاویزات کے مطابق بلوچستان بالخصوص کوئٹہ نوشکی، دالبندین تفتان روٹ پر سکیورٹی انتظامات کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایل پی جی کی نقل و حمل سرحدی علاقوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے کیوں کہ بھاری مالی نقصان کے باعث ایل پی جی کے مرکزی درآمدکنندگان کام جاری رکھنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

اوگرا نے متنبہ کیا ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پاکستان میں ایل پی جی کی فراہمی مستقبل قریب میں بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ مائع پٹرولیم گیس پاکستان میں اکثریتی آبادی کے لیے کھانے پکانے کے مرکزی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے، صرف 28 تا 30 فیصد آبادی کو ہی قدرتی گیس کی سہولت میسر ہے جبکہ باقی آبادی ایندھن کے متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہے۔

پاکستان کی ایل پی جی مارکیٹ کا انحصار درآمد پر ہے، سالانہ مقامی طلب لگ بھگ 2 ملین ٹن ہے جس میں سے 70 فیصد گیس درآمد کی جاتی ہے جبکہ مقامی پیداوار ملکی ضروریات کا 30 فیصد فراہم کرتی ہے۔

پاکستان میں 75 فیصد ایل پی جی بلوچستان میں پاک ایران سرحدی راستے کے ذریعے درآمد ہوتی ہے اور اس راستے پر رکاوٹوں سے براہ راست قومی سطح پر دستیابی متاثر ہوتی ہے، لاگت بڑھ جاتی ہے اور قیمت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

اوگرا نے ایل پی جی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے سٹریٹجک سپلائی روٹ پر حملے کرنے والوں کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا تاکہ مارکیٹ مستحکم رہ سکے۔

خیال رہے کہ ایل پی جی کی قیمت میں پہلے ہی اس مہینے ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے، سرکاری سطح پر نرخ 12.89 روپے فی کلو گرام بڑھنے کے بعد 254.32 روپے فی کلو ہو چکے ہیں جبکہ کئی مقامات پر صارفین کہیں زیادہ قیمت پر ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔

اس سے پہلے کسٹمز حکام نے سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کو بتایا تھا کہ 30 سے 40 پٹرولیم و ایل پی جی ٹینکروں پر بلوچستان میں حملے ہوئے ہیں جس سے تقریباً دو ارب روپے کا نقصان ہوا۔

کسٹمز حکام نے یہ بھی بتایا کہ اب پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل سکیورٹی قافلوں کی نگرانی میں ہوتی ہے جس سے صورت حال بہتر ہوئی ہے تاہم سکیورٹی انتظامات کے باوجود حملے جاری ہیں جس کے لیے مؤثر و دیرپا حفاظتی حل کی ضرورت ہے۔