کاشت کاروں کی محنت سے زیتون کی پیداوار میں شاندار کامیابی ملی: وزیراعظم

کاشت کاروں کی محنت سے زیتون کی پیداوار میں شاندار کامیابی ملی: وزیراعظم

وفاقی دارالحکومت میں پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کے اجرا کی تقریب میں شہباز شریف نے شرکت کی اور زیتون کی مصنوعات کے مختلف سٹالز کا دورہ کیا۔
اُنہوں نے زیتون کی مصنوعات میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کاشت کاروں اور ملک بھر سے زیتون پیدا کرنے والے انٹرپرینیورز سے گفتگو کی اور ان سے بریفنگ لی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا زیتون کی کاشت کو فروغ دینے والے کسانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کسانوں اور ماہرین کی شب و روز محنت سے زیتون کے شعبے میں شاندار مثال قائم ہوئی ہے۔

شہباز شریف نے زیتون کی کاشت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے کسانوں کو سلیوٹ پیش کیا اور انہیں عظیم پاکستانی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ لورالائی سے عبدالجبار، مردان سے قرۃ العین اور چکوال سے یعقوب اظہار کی محنت قابل تحسین ہے۔

وزیراعظم کا زیتون کی کاشت کے فروغ کے لیے صوبائی حکومتوں کے تعاون پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کسانوں نے ثابت کیا ہے کہ عزم، محنت اور جدید سوچ کے ذریعے بڑے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت زرعی انقلاب کے لیے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی اور زیتون سمیت جدید زرعی شعبے کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

اطالوی سفیر
اطالوی سفیر کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے، پاکستان اور اٹلی کے درمیان شراکت داری کی طویل اور قابلِ قدر تاریخ ہے، زراعت، سائنس، تعلیم، تجارت اور سکیورٹی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون فروغ پا رہا ہے۔

اطالوی سفیر نے بتایا کہ 2016 میں پاکستان میں زیتون کے درختوں کی تعداد تقریباً 5 لاکھ تھی جب کہ آج ملک بھر میں 70 لاکھ سے زائد زیتون کے پودے کاشت کیے جا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اولیو کلچر پراجیکٹ کے ذریعے پاکستان کے زیتون کے شعبے کو مختلف سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور ویلیو چین سے وابستہ 700 سے زائد اسٹیک ہولڈرز کو تربیت دی جا چکی ہے۔

وفاقی سیکرٹری عامر علی
وفاقی سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق عامر علی احمد نے نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کے اجرا کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد زیتون کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان جلد جنوبی، مشرقی اور وسطی ایشیا کی منڈیوں میں زیتون کا تیل برآمد کرے گا، پاکستان کو روایتی زرعی نظام سے آگے بڑھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

مزید برآں تقریب میں بلوچستان کے علاقے کوئٹہ اور لورالائی سے تعلق رکھنے والے زیتون کے کاشت کار عبدالجبار نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زیتون کی کاشت کو فروغ دے کر ملکی قرض اتارنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔