خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پوری کوشش ہے کہ موسم سرما میں عوام کو مناسب قیمت پر گیس فراہم کریں۔
وفاقی دارالحکومت میں عطا تاڑر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف شہروں سے ایل پی جی کی قیمت 800 روپے فی کلو تک وصول کیے جانے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ایل پی جی مارکیٹ میں بعض شرارتی عناصر نے اپنا دائرہ کار بڑھا لیا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
وفاقی وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ ملک میں ایل پی جی کی سالانہ طلب تقریباً 24 لاکھ ٹن ہے، جبکہ روزانہ 6 سے 7 ہزار ٹن ایل پی جی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اس طلب میں سے 2500 ٹن سے زائد ایل پی جی مقامی سطح پر فراہم کی جاتی ہے جب کہ باقی ضروریات دیگر ذرائع سے پوری کی جاتی ہیں۔
وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت سردیوں کے موسم میں گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، حکومت کی پوری کوشش ہے کہ موسم سرما میں عوام کو مناسب قیمت پر گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ خطے میں درپیش چیلنجز کے باعث ایل این جی کی درآمد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب جو بھی کمپنی بیرون ملک سے ایل پی جی درآمد کرنا چاہے گی، اسے اجازت ہوگی، ایل پی جی درآمد کرنے والی ہر کمپنی اپنی درآمدی قیمت اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گی تاکہ صارفین کو نرخوں سے متعلق معلومات دستیاب ہوں۔
عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پوری دنیا اس وقت تیل کے بحران سے دوچار ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم مشکل حالات کے باوجود وزیراعظم نے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا اور انہیں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ریفائنریوں کا منافع عوام کو منتقل کیا گیا ہے تاکہ عالمی بحران کے اثرات سے عوام کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھا جا سکے، وزیراعظم نے عوامی ریلیف کے لیے بروقت اور دلیرانہ فیصلے کیے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے سردیوں میں گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔