خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں ساورن ویلتھ فنڈز ترمیمی بل 2026 پر غور کیا گیا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو معاشی صورتحال اور حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی۔
وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ ساورن ویلتھ فنڈز کا قانون 2023 میں لایا گیا تھا، نئی ترمیم کے ذریعے اس کا دائرہ کار واضح کیا جا رہا ہے، بڑی سرکاری کمپنیوں کو ملا کر ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے، ساورن ویلتھ فنڈ 7 ارب ڈالر کا ہوگا، دنیا میں بھی اس نوعیت کے فنڈز موجود ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 2023 میں آپ کچھ اور بات کر رہے تھے، آج اس معاملے پر مختلف بات ہو رہی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کی جگہ 5 سے 10 سالہ طویل مدتی قرضے لیے جا رہے ہیں، قلیل مدتی مہنگے قرضوں کی ادائیگی کرکے قرضوں کی مدت بڑھائی جا رہی ہے، پاکستان کا بڑا مسئلہ قرضوں کی واپسی اور رول اوور کا خطرہ رہا ہے، ہر تین ماہ بعد بینکوں سے قرضوں کی ری فنانسنگ کرنا پڑتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کے باعث پاکستان کے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، مالیاتی خسارہ ساڑھے 12 فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد پر آگیا، گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا صرف 0.1 فیصد رہا، رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کے ساتھ درآمدات بڑھنے سے کرنٹ اکاؤنٹ پر اثر پڑتا ہے، تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدی بل پر دباؤ آیا ہے، پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ہماری بنیادی ترجیح ہے، معاشی استحکام کھونا آسان ہے لیکن اسے دوبارہ حاصل کرنے میں چار سے پانچ سال لگ جاتے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی گنجائش موجود ہو تو امداد اور بحالی کے لیے اپنے وسائل استعمال کرنے چاہئیں، ملک میں نقدی کی قلت یا امن و امان کی کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس سے بہتر ہو کر بی ہوگئی ہے، رواں مالی سال کے اختتام یا آئندہ مالی سال کے آغاز تک بی پلس ریٹنگ حاصل ہونے کی توقع ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ہدف بی پلس سے آگے بڑھ کر ڈبل بی کریڈٹ ریٹنگ کی کیٹیگری میں داخل ہونا ہے، ماضی میں پاکستان کی بہترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی پلس رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق گزشتہ سال بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر ساڑھے چار ارب ڈالر خرچ ہوئے، رواں مالی سال بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں تقریباً چار ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے جبکہ آئندہ مالی سال یہ ادائیگیاں کم ہو کر ساڑھے تین ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنا حکومت کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، درآمدات میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ اور ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ آسکتا ہے، پاکستان دوبارہ عالمی قرض دہندگان کے پاس جانے سے بچنے کے لیے محتاط پالیسی اپنا رہا ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عالمی معیشت میں استحکام کے باوجود بڑی معیشتوں کا مستقبل تشویشناک دکھائی دے رہا ہے، یورپی ممالک بھی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور تعاون اہمیت کے حامل ہیں۔