خلاصہ
- قصور: (دنیا نیوز) نجی ہسپتال میں ایک لڑکی کے گردے کی غیر قانونی پیوند کاری کے معاملے میں پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی (پی ہوٹا) لاہور اور پنجاب پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مرکزی کردار ڈاکٹر سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
حکام کے مطابق غیر قانونی پیوند کاری میں ملوث ڈاکٹر محمد راشد خان کو لاہور کی ایک نجی سوسائٹی سے گرفتار کیا گیا، جبکہ کارروائی کے دوران نوید، سید عمار اور شہباز نامی تین دیگر ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
مشترکہ کارروائی کی سربراہی عدنان احمد بھٹی، ہیڈ آف ویجیلنس نے کی، جبکہ ٹیم میں میاں کاشف شوکت، انسپکٹر ویجیلنس، ڈاکٹر فیصل، سب انسپکٹر نجم اور پنجاب پولیس کے دیگر اہلکار شامل تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے دیگر ملوث ڈاکٹروں اور ایجنٹوں کے ساتھ مل کر "سکینہ" نامی لڑکی کا غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ کیا تھا، تاہم پیوند کاری کامیاب نہ ہو سکی، بعد ازاں متاثرہ لڑکی کا ناکام گردہ نکالنے کے لیے قصور کے ایک نجی ہسپتال میں آپریشن کیا جا رہا تھا۔
محکمہ صحت اور پنجاب پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ کارروائی کے دوران علامہ اقبال ہسپتال قصور کو بھی سیل کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس غیر قانونی نیٹ ورک میں ملوث دیگر ڈاکٹروں، ایجنٹوں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل پی ہوٹا کی ہدایت پر متاثرہ مریضہ سکینہ بی بی کو مزید بہتر علاج کے لیے سروسز ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت اور غیر قانونی ٹرانسپلانٹیشن میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور ایسے جرائم میں ملوث کسی فرد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔