خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) گوجرانوالہ کے ایک سکول کی چھت پر آدھی چھٹی کا منظر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت برسوں پیچھے لوٹ گیا ہو۔ آج کل جہاں زیادہ تر بچے موبائل فون پر مصروف دکھائی دیتے ہیں، وہیں اس سکول میں بچیاں لڑکیاں قطار بنا کر شٹاپو کھیلتی نظر آتی ہیں۔
کوئی خانے بنا رہی ہے، کوئی اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے، یہ سب دیکھ کر بچپن کی خوبصورت یادیں تازہ ہو جاتی ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے ہم اپنے بچپن میں واپس چلے گئے ہوں۔
یہ کھیل، جو کبھی محلے کی گلیوں اور سکول کے صحن میں ہر بچہ کھیلتا تھا، اب بہت کم نظر آتا ہے، لیکن جن علاقوں میں بچوں تک موبائل فون کی رسائی ابھی زیادہ نہیں ہوئی، وہاں یہ کھیل اور روایات آج بھی زندہ ہیں۔
![]()
چوتھی جماعت کی طالبہ ماہم نے بتایا کہ یہ کھیل ان کے لیے کتنا خاص ہے، فون تو سب کے پاس ہے، لیکن مجھے شٹاپو کھیلنے کا زیادہ شوق ہے، بریک ٹائم ہوتا ہے تو میں اور میری سہیلیاں چھت پر جا کر شٹاپو کھیلتی ہیں، بہت مزہ آتا ہے۔
اسی دوران پانچویں کلاس کی حسنہ کاوش نے کہا کہ مجھے تو اور بھی کھیل پسند ہیں، جیسے ایکلی پیکلی، لیکن میری دوستوں کو شٹاپو زیادہ پسند ہے، اس لیے ہم سب ساتھ کھیلتے ہیں، بہت مزہ آتا ہے۔
بچوں کے کھیل دیکھ کر والدین بھی جذباتی ہوئے بغیر نہ رہ سکے، ایک والدہ نے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے وقت میں یہ کھیل ہر جگہ کھیلا جاتا تھا، آج کل کے بچے تو زیادہ تر موبائل فون میں لگے رہتے ہیں، اس لیے ایسا منظر دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔

سکول کی پرنسپل نے بتایا کہ وہ جان بوجھ کر کوشش کر رہی ہیں کہ بچوں کو دوبارہ روایتی کھیلوں کی طرف لایا جائے، اب یہ کھیل بہت کم دکھائی دیتے ہیں، موبائل فون نے بچوں کو اپنی طرف زیادہ کھینچ لیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ بچوں کو فزیکل گیمز کی طرف لایا جائے تاکہ وہ صحت مند بھی رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت بھی واپس آئے۔
ایک زمانہ تھا کہ پنجاب کے شہروں کے گلی محلوں میں، میدانوں میں بچے گِلی ڈنڈا کھیلتے نظر آتے تھے، صحنوں میں بچے بندر کلا کے گرد گھومتے تھے، سرِشام چور سپاہی کھیلا جاتا تھا، لڑکیاں ایکلی پیکلی کھیلتی تھیں، جگہ جگہ کشتی کے اکھاڑے ہوتے تھے۔
کرکٹ کے ساتھ ساتھ فٹ بال بھی گلیوں میں کھیلا جاتا تھا، ہاکی بھی کھیلی جاتی تھی مگر اب یہ کھیل میدانوں تک مخصوص ہو گئے ہیں، اب وہی بچے یہ کھیل کھیلتے ہیں جو ان کو پیشے کے طور پر اپنانا چاہتے تھے۔
کبڈی ابھی متروک کھیل نہیں ہوا، برصغیر کی ٹیمیں بین الاقوامی سطح پر یہ کھیل کھیلتی ہیں، اس کھیل میں گبھرو، مضبوط، توانا اور اچھے سٹیمنا والے نوجوان حصہ لیتے ہیں، پٹھو گول گرم چھوٹے بچوں کا کھیل ہے، کوکلا چھپاکی رات کے وقت کھیلا جاتا تھا، ایک اور کھیل بہت مقبول تھا جسے یسو پنجو کہا جاتا ہے، اسی طرح ایک کھیل لٹو گھمانا ہوتا تھا، لکڑی اور مٹی کے لٹو مقبول رہے ہیں۔

ضرورت ہے کہ ہمارے روایتی کھیلوں کی ترویج کے لیے حکومتی سطح پر باقاعدہ کام کیا جائے تاکہ بچے ذہنی و جسمانی طور پر صحت مند ہوں۔