خلاصہ
- لاہور: (دانیال حسن چغتائی) جنت نظیر وادی کشمیر زندہ احساس کا نام ہے، ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان گھری یہ وادی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے زمین پر جنت کہلاتی ہے، مغل شہنشاہ جہانگیر نے جب یہاں کے حسن کو دیکھا تو بے اختیار پکار اٹھا تھا کہ اگر زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ یہیں ہے۔
ڈل جھیل سری نگر کی پہچان اور یہاں کی معیشت و ثقافت کا مرکز ہے، جھیل کے شفاف پانی پر تیرتے شکارے اور عالیشان ہاؤس بوٹس ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جو خوابوں سے کم نہیں۔
کچھ لوگ ڈل جھیل کو لداخ کا حصہ سمجھتے ہیں جبکہ حقیقتاً لداخ میں نہیں بلکہ سری نگر وادی کشمیر کا دل کہلاتی ہے، لداخ اپنی خوبصورت جھیلوں جیسے پینگونگ کیلئے مشہور ہے لیکن شکارے اور کشمیری چائے کا جادو سری نگر کی ڈل جھیل سے وابستہ ہے۔
بہت سے سیاحوں کا خواب ہوتا ہے کہ وہ غروبِ آفتاب کے وقت ڈل جھیل کے خاموش پانیوں میں شکارے پر سوار ہوں اور ہاتھ میں کشمیری قہوہ یا نون چائے یعنی گلابی چائے کا پیالہ ہو، یہ چائے کشمیری مہمان نوازی کی علامت ہے۔ طویل وقت میں پکنے والی یہ چائے بادام، پستے اور زعفران کی خوشبو سے مہکتی ہے جو جھیل کی ٹھنڈی ہواؤں میں عجیب سی تپش اور سکون بخشتی ہے۔
کشمیر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، جس کا ذکر قدیم سنسکرت کتابوں اور یونانی مورخین کے ہاں ملتا ہے، ہندو اور بدھ مت دور میں قدیم کشمیر علم و ادب کا مرکز تھا، اشوک اعظم کے دور میں یہاں بدھ مت پھیلا، کلہن کی مشہور کتاب راج ترنگنی کشمیر کی قدیم تاریخ کا سب سے مستند ماخذ مانی جاتی ہے۔
چودہویں صدی میں صوفیائے کرام، بالخصوص حضرت شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کی آمد سے کشمیر میں انقلاب برپا ہوا، انہوں نے اسلام پھیلایا بلکہ ایران سے ہنرمند لا کر کشمیر کو صنعت و حرفت قالین بافی، شال سازی کا مرکز بنا دیا۔
مغلوں نے یہاں نشاط و شالیمار کے باغات لگوائے، مغلوں کے بعد افغانوں اور پھر سکھوں نے یہاں حکومت کی، 1846 میں معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں نے کشمیر کو گلاب سنگھ کے ہاتھ 75 لاکھ نانک شاہی سکوں میں بیچ دیا، یہیں سے جدید کشمیر کے دکھوں کا آغاز ہوا جو 1947 کی تقسیم ہند کے بعد مستقل سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔
کشمیر کی ثقافت کشمیرایت کے فلسفے پر مبنی ہے، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں، کشمیری پھیرن جو لمبا لبادہ ہوتا یے، یہاں کی سردی کا مقابلہ کرنے کا روایتی طریقہ ہے، یہاں کی پشمینہ شالیں پوری دنیا میں اپنی نزاکت اور گرمائش کیلئے مشہور ہیں، لکڑی پر نقش و نگار اور پیپر ماشی کے فن میں کشمیریوں کا کوئی ثانی نہیں۔
روؤف یہاں کا مشہور لوک رقص ہے جو عید اور خوشی کے مواقع پر خواتین کرتی ہیں، صوفیانہ کلام اور ستار کی دھنیں یہاں کی فضاؤں میں رچی بسی ہیں، کشمیری وازوان اپنی لذت کیلئے مشہور ہے جس میں 36 قسم کے پکوان شامل ہوتے ہیں، گوشت کو مختلف طریقوں سے پکانا جیسے گشتابہ کشمیری فنِ طباخی کا کمال ہے۔
کشمیر کی سیاست ہمیشہ سے اس کے جغرافیائی مقام اور مذہبی شناخت کے گرد گھومتی رہی ہے، کشمیر کو پیر واری پیروں کی زمین کہا جاتا ہے، یہاں کی درگاہیں درگاہ حضرت بل اور چرارِ شریف عوامی یکجہتی کے مراکز ہیں۔
1947 کے بعد سے کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع خطہ بن گیا، یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین مسائل میں سے ایک ہے، آرٹیکل 370 کے خاتمے اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں نے اس خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، کشمیری عوام کی جدوجہد اپنی شناخت اور حقِ خودارادیت کے گرد گھومتی ہے۔
اگرچہ ڈل جھیل لداخ میں نہیں لیکن لداخ بذاتِ خود کشمیر کا اہم حصہ رہا ہے اور اب انتظامی طور پر الگ ہے، لداخ کو چھوٹا تبت کہا جاتا ہے، یہاں کی ثقافت بدھ مت سے متاثر ہے اور یہاں کی بنجر پہاڑیاں، اونچے درے کھاردونگ لا اور سرد صحرا اسے وادی کشمیر سے بالکل مختلف لیکن اتنا ہی حسین بناتے ہیں۔
کشمیر برف پوش پہاڑوں اور جھیلوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ انسانی عزم، بے پناہ ٹیلنٹ اور گہری روحانیت کی داستان ہے، ڈل جھیل کے پانیوں میں لرزتی ہاؤس بوٹ کی روشنی ہو یا کشمیری چائے کی بھاپ، یہ سب ایسی جنت کی یاد دلاتے ہیں جو امن اور سکون کی منتظر ہے، کشمیر کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے علم اور امن کا گہوارہ رہا ہے اور اس کی خوبصورتی اس کے لوگوں کی ہمت اور ان کی شاندار ثقافت میں پوشیدہ ہے۔
دانیال حسن چغتائی نوجوان لکھاری ہیں، معاشرتی اور سماجی مسائل پر مبنی ان کے مضامین مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔