خلاصہ
- لاہور: (امین کنجاہی) لاہور کے نواح میں واقع مقبرہ جہانگیر مغلیہ دور کی عظمت، شان و شوکت اور فن تعمیر کا ایک بے مثال شاہکار ہے، صدیوں پر محیط تاریخ کا یہ خاموش امین آج بھی اپنے بلند و بالا میناروں، نفیس سنگِ مرمر کی نقش و نگاری اور دلکش باغات کے ذریعے ماضی کی داستانیں سناتا دکھائی دیتا ہے۔
مغل شہنشاہ جہانگیر کی آخری آرام گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا یہ مقبرہ نہ صرف ایک تاریخی یادگار ہے بلکہ برصغیر کی تہذیبی اور ثقافتی وراثت کا قیمتی سرمایہ بھی شمار ہوتا ہے، وقت گزرنے کے باوجود اس کی دلکشی اور تاریخی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی، یہی وجہ ہے کہ یہ مقام ملکی و غیر ملکی سیاحوں، محققین اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا، 1605ء میں تخت نشین ہوا اور تقریباً ساڑھے اکیس سال حکومت کر کے 8 نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا، اُسے دریائے راوی کے کنارے واقع ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا کے وسط میں دفن کیا گیا، اس باغ کو باغ دلاآمیز بھی کہا جاتا ہے۔
جہانگیر کا مقبرہ اُس کے بیٹے شاہجہاں نے بنوایا تھا، مقبرہ جہانگیر کو مغلیہ عہد میں تعمیر کئے گئے مقابر میں اہم مقام حاصل ہے، دریائے راوی کے دوسرے کنارے یعنی شاہدرہ کی طرف سے لاہور آئیں تو مغلیہ دور کی تعمیرات میں سے مقبرہ جہانگیر، مقبرہ آصف جاہ اور ملکہ نور جہاں کا مقبرہ نمایاں نظر آتے ہیں، ان کا شمار مغلوں کی تعمیر کردہ حسین یادگاروں میں ہوتا ہے۔
مقبرہ جہانگیر باغ دلکشا‘‘ میں واقع ہے، باغ دلکشا نواب مہدی قاسم کی ملکیت تھا جو اکبر بادشاہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا، اس نے یہ باغ 1556ء میں دریائے راوی کے پار بنوایا تھا، نواب مہدی خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی، اب لوگ باغ دلکشا کا نام بھول چکے ہیں اور اس ساری جگہ کو مقبرہ جہانگیر ہی کہا جاتا ہے، مقبرہ جہانگیر کی تعمیر کا آغاز ملکہ نور جہاں نے کیا تھا اور شاہ جہاں نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا، شہنشاہ اکبر کی وفات 1605ء میں ہوئی تو اس کا بیٹا جہانگیر نور الدین جہانگیر‘‘ کے لقب کے ساتھ تخت نشیں ہوا، اس نے کئی اصلاحات کیں، فریادیوں کی داد رسی کیلئے اپنے محل کی دیوار کے ساتھ ایک زنجیر لگوا دی جسے ’’زنجیرِ عدل‘‘ کہا جاتا تھا، اس کے ذریعے ہر کوئی اپنی شکایت بآسانی بادشاہ تک پہنچا سکتا تھا، شہنشاہ جہانگیر نے حکم دیا کہ شاہراہوں پر سرائے، کنویں اور مساجد تعمیر کی جائیں۔
شہنشاہ جہانگیر کو بھی اپنے باپ اکبر کی طرح لاہور سے بہت زیادہ لگاؤ تھا، 1624ء میں جب کشمیر کے سفر کے دوران اس کی وفات ہوئی تو اس نے وفات سے قبل لاہور میں دفن کئے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی چنانچہ اسے چہیتی بیگم ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا میں دفن کیا گیا، شاہ جہاں نے مقبرے کی تعمیر پر دس لاکھ روپے خرچ کئے تھے، قرآن پاک پڑھنے کیلئے حفاظ مقرر کئے گئے جو باری باری ہر وقت مزار پر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔
مقبرہ جہانگیر کی حدود میں ملکہ نور جہاں نے ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کرائی تھی، یہاں نور جہاں نے کافی عرصہ رہائش بھی اختیار کی اس لیے یہاں رہائشی عمارات بھی تعمیر کی گئی تھیں، ملکہ نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے ایک ہی رقبے میں تھے لیکن جب انگریزوں نے ان کے درمیان ریلوے لائن بچھائی تو مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔
مقبرہ جہانگیر کے چاروں کونوں پر خوبصورت مینار موجود ہیں، ہر مینار سو فٹ بلند ہے اور اس کی اکسٹھ سیڑھیاں ہیں، مقبرہ کی عمارت ایک مربع نما چبوترے پر ہے، قبر کا تعویز سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گلکاری کی گئی ہے، دائیں اور بائیں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام کندہ ہیں، سرہانے کی طرف بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہے، مزار کے چاروں جانب سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں، مقبرے کا اندرونی فرش سنگ مرمر، سنگ موسیٰ اور سنگ ابری جیسے مختلف قیمتی پتھروں سے مزین ہے۔
مقبرہ جہانگیر کا غربی دروازہ جس میں سے ہاتھی بمعہ سوار کے گزر سکتا تھا اور چار دیواری کے باہر جو کنویں تھے دریا برد ہو چکے ہیں صرف ایک کنواں موجود ہے، باغ کے اندر آج بھی کھجور کے قدیم درخت موجود ہیں، باغ کی دیواروں کے ساتھ کمروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے جہاں شاہی محافظ، سپاہی اور خدام رہا کرتے تھے، نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں اور سکھوں کے دور میں مقبرہ جہانگیر کو بہت نقصان پہنچا، اس کے باوجود یہ عمارت آج بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنی عہدِ رفتہ کی یاد دلاتی ہے۔