حاکم شارجہ کی نئی تاریخی کتاب ’’الجلندی‘‘ کی رونمائی، تصانیف کی تعداد 219 ہوگئی

حاکم شارجہ کی نئی تاریخی کتاب ’’الجلندی‘‘ کی رونمائی، تصانیف کی تعداد 219 ہوگئی

7 نومبر کو منعقدہ تقریب میں شارجہ کے نائب حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن احمد القاسمی، شارجہ بک اتھارٹی کی چیئرپرسن شیخہ بدور بنت سلطان القاسمی، اعلیٰ حکومتی شخصیات، ادیبوں اور ثقافتی حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ ڈاکٹر سلطان القاسمی نے کہا کہ تاریخی واقعات کو درست انداز میں محفوظ کرنے کیلئے مستند مخطوطات اور اصل دستاویزات کی تحقیق انتہائی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے سے لکھی گئی تاریخ پر انحصار کرنے کے بجائے بنیادی تاریخی شواہد تک رسائی حاصل کی جانی چاہیے تاکہ تاریخی غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح ممکن ہو سکے۔

حاکم شارجہ نے بتایا کہ انہوں نے نئی کتاب ’’الجلندی‘‘ صرف پانچ دن میں تحریر کی جبکہ اس کی طباعت میں نصف دن لگا، مختصر تاریخی ناولوں کا مقصد مصروف زندگی گزارنے والے افراد، خصوصاً نوجوان نسل کو مطالعے کی طرف راغب کرنا اور تاریخی حقائق کو دلچسپ ادبی انداز میں پیش کرنا ہے۔

پانچ ابواب پر مشتمل یہ کتاب انیسویں صدی کے تاریخی کردار شیخ خالد بن سلطان بن صقر القاسمی کی زندگی کے 38 برسوں کا احاطہ کرتی ہے، جو ’’الجلندی‘‘ کے لقب سے مشہور تھے۔

کتاب میں شارجہ، رأس الخیمہ، مسقط اور خلیجی خطے کی سیاسی، سماجی اور بحری تاریخ کے علاوہ ان کی زندگی کے اہم واقعات، جدوجہد اور انسانی جذبات کو تاریخی حوالوں سے بیان کیا گیا ہے۔

شیخ سلطان القاسمی کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 54 برس سے تحقیق اور ادبی تخلیق کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ان کا بنیادی مقصد مستند تاریخی علم کو نئی نسل اور محققین تک پہنچانا ہے۔

انہوں نے جامعات کے طلبہ اور محققین پر زور دیا کہ وہ تاریخی تحقیق کے دوران اصل مخطوطات اور دستاویزات کو بنیادی اہمیت دیں۔

تقریب کے اختتام پر حاکم شارجہ نے اپنی نئی کتاب کی ابتدائی کاپیوں پر دستخط کیے اور انہیں تقریب میں شریک اعلیٰ شخصیات کو پیش کیا، شرکا نے شارجہ میں علمی و ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور تاریخی ورثے کے تحفظ کیلئے حاکم شارجہ کی خدمات کو سراہا۔